English
And from Sahl ibn Sa’d, who said: The people were commanded that a man should place his right hand over his left forearm in prayer. [Narrated by Al-Bukhari]
In a narration by Al-Nasa’i, from Wa’il ibn Hujr, who said: I said to myself, “I will observe the prayer of the Messenger of Allah ﷺ to see how he prays.” So I observed him. He stood, said the Takbir, and raised his hands until they were level with his ears. Then he placed his right hand over the back of his left hand, wrist, and forearm.
Our scholars said: The Sunnah is to combine placing and grasping, reconciling what has been mentioned in the narrations. In some narrations, there is mention of grasping, in others, placing one hand over the other, and in others, placing the hand on the forearm. The method of reconciliation is to place the right palm over the left palm, form a circle with the thumb and little finger around the wrist, and extend the remaining three fingers over the forearm. This fulfills the descriptions of placing the hand over the hand, over the forearm, and grasping the left hand with the right hand.
The foundational principle is that whenever it is possible to reconcile two seemingly contradictory matters, one should not abandon either of them. This is mentioned in Al-Halbi and Al-Muhtar.
العربية
Typed, pending editorial approval
١٠٨٥ - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الله قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِي عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ كَيْفَ يُصَلِّي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَنَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْعِ وَالسَّاعِدِ.
قَالَ مَشَايِخُنَا: السُّنَّةُ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الوَضْعِ وَالْقَبْضِ جَمْعًا بَيْنَ مَا وَرَدَ فِي الْأَحَادِيثِ الْمَذْكُورَةِ؛ إِذْ فِي بَعْضِهَا ذِكْرُ الْأَخْذِ، وَفِي بَعْضِهَا ذِكْرُ وَضْعِ الْيَدِ عَلَى الْيَدِ، وَفِي الْبَعْضِ وَضْعُ الْيَدِ عَلَى الدَّرَاعِ، فَكَيْفِيَّةُ الْجَمْعِ أَنْ يَضَعَ الْكَفَّ الْيُمْنَى عَلَى الْكَفَّ الْيُسْرَى، وَيُحَلِّقَ الْإِبْهَامَ وَالْخِنْصَرَ عَلَى الرُّسُعَ، وَيَبْسُطُ الْأَصَابِعَ الثَّلَاثَ عَلَى الذَّرَاعِ، فَيَصْدُقُ أَنَّهُ وَضَعَ الْيَدَ عَلَى الْيَدِ وَعَلَى الدَّرَاعِ، وَأَنَّهُ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ.
وَالْقَاعِدَةُ الْأُصُوْلِيَّةُ: أَنَّهُ مَتَى أَمْكَنَ الْجَمْعُ بَيْنَ الْمُتَعَارِضَيْنِ ظَاهِرًا لَا يُعْدَلُ عَنْ أَحَدِهِمَا، كَذَا فِي الْخَلْبِيِّ» وَرَدَّ الْمُحْتَارِ».
اردو
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانہ میں) لوگوں کو حکم تھا کہ وہ نماز میں اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا کریں۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
اور نسائی کی ایک روایت میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے
ہیں کہ میں نے (دل میں) یہ بات ٹھان لی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دیکھوں گا کہ آپ
کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں؟ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر فرمایا
پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے برابر اٹھائے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے
سیدھے ہاتھ (کی ہتھیلی کو) بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھ کر سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور چھنگلیا
سے (حلقہ بنا کر) بائیں ہاتھ کے پہنچے کو (اس طرح) پکڑ لیا کہ (سیدھے ہاتھ کی باقی تین انگلیاں
بائیں ہاتھ کے) پہونچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر تھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 740 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 889 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 798 (unverified) 92% confidence
Mishkat (candidate) 798
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کے متعلق حنفی مذہب میں تین قول ہیں،(1) ایک یہ ہے کہ پہلے اللہ اکبر کہے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے جیسا کہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے معلوم ہوتا ہے جس کی روایت نسائی نے کی ہے،(2) دوسرا قول یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ اور رفع یدین ساتھ ساتھ کئے جائیں، جیسا کہ وائل رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور بیہقی نے کی ہے، اس قول کو خانیہ، خلاصہ، تحفہ، بدائع، محیط، قدوری اور قاضی خان نے اختیار کیا ہے اور بقانی نے اس دوسرے قول کو جمیع احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور حلیہ نے اسی کو مفتی بہ قرار دیا ہے،(3) تیسرا قول یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے پھر اللہ اکبر کہے اور یہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام بخاری نے کی ہے، نیز ابن ماجہ، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی سے بھی اس حدیث کی روایت ہے، مجمع نے اس قول کو امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہا اللہ سے منسوب کیا ہے اور مبسوط میں لکھا ہے کہ اس تیسرے قول کو اکثر فقہائے احناف نے اختیار کیا ہے اور غایۃ البیان نے بھی اس قول کو جمہور علماء احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور صاحب ہدایہ کے پاس یہی تیسرا قول مفتی بہ ہے۔ (ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ۔) ف(2): نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں وہ تین طرح کی ہیں، ایک حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ سے پکڑنے کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنے کا ذکر ہے اور تیسری حدیث میں ہاتھ کو پہونچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رکھنے کا ذکر ہے۔ واضح رہے کہ جب کبھی کسی مسئلہ میں مختلف حدیثیں آتی ہیں جس سے ان میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے تو اُصولیین کا قاعدہ یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے ایسی کوشش کی جائے کہ ان جملہ مختلف احادیث پر عمل ہوسکے اور ان میں سے کوئی حدیث چھوٹنے نہ پائے۔ اسی قاعدے کے پیش نظر ہمارے فقہاء نے تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو مختلف احادیث آئی ہیں ان سب پر اس طرح عمل کیا ہے کہ ان میں سے کوئی حدیث بھی چھوٹنے نہیں پاتی، اسی لئے انہوں نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں سنت یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے ہتھیلی کی پشت پر رکھے اور سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور چھنگلی سے حلقہ بنا کر بائیں ہاتھ کے پہنچے کو اس طرح پکڑ لے کہ باقی تین انگلیاں بائیں پہنچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رہیں۔ اس سے یہ صادق آتا ہے کہ نمازی نے اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا ہے اور اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں کلائی پر بھی رکھا ہے اور اپنے بائیں ہاتھ کو سیدھے ہاتھ سے پکڑ لیا ہے، اس طرح نمازی نے ہاتھ باندھنے سے متعلقہ جملہ مختلف حدیثوں پر عمل کیا ہے۔ (حلبی، ردالمحتار)۔ ف(3): نماز میں ہاتھ باندھنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھیں۔ (طحاوی۔)