العربية
Typed, pending editorial approval
۱۰۸۹ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوْتِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 756a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں قیام کو طویل کرنا زیادہ رکعتوں کے پڑھنے سے افضل ہے، جیسے ایک شخص رکعتیں کم پڑھتا ہے مگر زیادہ قرآن پڑھ کر قیام کو طویل کر رہا ہے تو ایسے شخص کی نماز اس شخص کی نماز سے افضل ہے جو قیام میں قرآن کم پڑھتا ہے لیکن زیادہ رکعتیں ادا کرتا ہو، اس لئے قیام میں قرآن پڑھا جاتا ہے لیکن زیادہ رکعتوں کے رکوع اور سجود میں زیادہ تسبیحات پڑھی جاتی ہیں اور ظاہر ہے کہ قرآن کو تسبیحات پر فضیلت حاصل ہے۔ طویل قیام کو رکعتوں کی کثرت پر اس لئے بھی فضیلت حاصل ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں آٹھ رکعات ادا فرماتے لیکن ان رکعتوں میں قرآن کی طویل ترین سورتیں تلاوت فرما کر قیام کو طویل فرمایا کرتے تھے حنفی مذہب میں طویل قیام کی فضیلت ہی پر فتویٰ ہے۔ واضح رہے کہ زیادہ رکعتوں کے پڑھنے پر طویل قیام کو جو فضیلت حاصل ہے، اس کا تعلق نوافل سے ہے اس کے برخلاف فرض نمازوں کے قیام، رکوع اور سجدہ کو سنت کے موافق ادا کرنا ہی افضل ہے۔ (ملتقی، کنز، مرقات۔)