Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1112

Chapter on What is Recited After the Takbir

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on What is Recited After the Takbir

Zujajat al-Masabih 1112Volume 1

English

Ibrahim reported: Some people from Basra came to Umar ibn Al-Khattab to ask him about how to begin the prayer. Umar stood up, began the prayer, and they stood behind him. He then recited loudly: (Glory be to You, O Allah, and praise be to You. Blessed is Your name, and exalted is Your majesty. There is no god but You). [Narrated by Muhammad in Al-Athar while Al-Daraqutni also narrated something similar] Muhammad said: We follow this in beginning the prayer, but we do not consider it necessary for the Imam or those behind him to recite it loudly. Umar only did so to teach them what they had asked about. Shaykh Ibn Al-Humam said: Since it is established that the Companions, such as Umar and others, began the prayer with "Subhanaka Allahumma" and recited it loudly to teach people so they could follow and learn, this indicates that this was the final practice.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۱۱۲ - وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ أَتَوْا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه) لَمْ يَأْتُوهُ إِلَّا لِيَسْأَلُوْهُ عَنِ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ، فَافْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَهُمْ خَلْفَهُ، ثُمَّ جَهَرَ، فَقَالَ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ، وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ. رَوَاهُ مُحَمَّدٌ فِي الْآثَارِ». وَرَوَى الدَّارَ قُطْنِيُّ نَحْوَهُ. وَقَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، وَلَكِنَّا لَا نَرَى أَنْ يَجْهَرَ بِذَلِكَ الْإِمَامُ وَلَا مَنْ خَلْفَهُ، وَإِنَّمَا جَهَرَ بِذَلِكَ عُمَرُ؛ لِيُعَلِّمَهُمْ مَا سَأَلُوْهُ عَنْهُ، وَقَالَ الشَّيْخُ ابْنُ الْهُمَامِ: وَلَمَّا ثَبَتَ مِنْ فِعْلِ الصَّحَابَةِ كَعُمَرَ اللهِ وَغَيْرِهِ الافْتِتَاحُ بَعْدَهُ بِـ «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ مَعَ الْجَهْرِ بِهِ لِقَصْدِ تَعْلِيمِ النَّاسِ لِيَقْتَدُوْا وَيَأْنَسُوا كَانَ دَلِيْلًا عَلَى أَنَّهُ الَّذِي كَانَ هُ عَلَيْهِ آخِرَ الْأَمْرِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1261
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بصرہ کے چند لوگ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ حضرات آپ کی خدمت میں صرف اسی لئے حاضر ہوئے تھے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد شروع نماز میں ثناء کے متعلق دریافت کریں (کہ کن الفاظ میں پڑھی جائے) ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا (بیان کر) عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور نماز شروع فرمائی اور یہ سب لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرکے آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (تعلیم کے لئے) جہر سے ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ“ پڑھ کر (بتلایا کہ ثناء میں یہ الفاظ سنت ہیں)۔

Arabic quotation in the English source

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے اور دارقطنی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور امام محمد نے کہا ہے کہ ہم نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء کے انہی مذکورہ الفاظ کے پڑھنے کو (اختیار کئے ہیں) لیکن امام اور مقتدی دونوں کو چاہئے کہ وہ ثناء کے ان الفاظ کو جہر سے نہ پڑھیں، اب رہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس وقت ثناء کے ان الفاظ کو جہر سے پڑھنا محض سوال کرنے والوں کی تعلیم کی غرض سے تھا، امام ابن الہمام نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے عمل سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ سب حضرات تکبیر تحریمہ کے بعد نماز کو ثناء کے انہی الفاظ سے شروع کرتے تھے اور حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام کا لوگوں کی تعلیم کے لئے ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“، تا آخر کو جہر کے ساتھ پڑھنا کہ لوگ اس ثناء کو اختیار کریں اور اس سے مانوس ہوں، اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ثناء کے انہی مذکورہ الفاظ کو پڑھنا تھا۔