English
It is narrated from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) who said: "The Prophet (peace be upon him) would recite Surah Al-Fatihah and another Surah in the first two rak’ahs, and only Surah Al-Fatihah in the last two rak’ahs." He added: "We used to discuss that no prayer is valid except with Surah Al-Fatihah and something additional to it." [Narrated by Al-Bayhaqi] 2
It is also narrated by Ubaydullah ibn Miqsam from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) that he said: "The Sunnah of recitation in prayer is to recite Surah Al-Fatihah and another Surah in the first two rak’ahs, and only Surah Al-Fatihah in the last two rak’ahs." Sufyan added: "This is for one who prays alone." [Narrated by Abu Dawud]
Al-Tirmidhi said: "As for Ahmad ibn Hanbal, he said that the meaning of the Prophet’s (peace be upon him) statement, 'There is no prayer for one who does not recite Surah Al-Fatihah,' applies when praying alone." He argued with the Hadith of Jabir ibn Abdullah, where he said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam." Ahmad said: "This is a companion of the Prophet (peace be upon him) interpreting the Prophet’s statement, 'There is no prayer for one who does not recite Surah Al-Fatihah,' as applying to one who prays alone."
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۱۳۸ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأَوْلَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُوْرَةٍ، وَيَقْرَأُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ. قَالَ: وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَشَيْءٍ مَعَهَا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ . 2
وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: سُنَّةُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ أَنْ يُقْرَأُ فِي الْأَوْلَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُوْرَةِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ. قَالَ سُفْيَانُ: لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، فَقَالَ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ: إِذَا كَانَ وَحْدَهُ. وَاحْتَجَّ بِحَدِيْثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حَيْثُ قَالَ: مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأُ فِيْهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلُّ إِلَّا أَنْ يَكُوْنَ وَرَاءَ الْإِمَامِ. قَالَ أَحْمَدُ: فَهَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ تَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ : لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَنَّ هَذَا إِذَا كَانَ وَحْدَهُ. انْتَهَى
اردو
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم (چار رکعت والی فرض نماز کی) پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ ضم کرلیا
کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے، جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
ہمارے زمانہ میں یہ بات مشہور تھی کہ نماز میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ ضم سورہ کئے بغیر نماز جائز نہیں
ہوتی۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور اس
کے ساتھ کسی سورہ کو ضم کرنا اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ کا پڑھنا سنت ہے (یعنی فرض نہیں
ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 803 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 2
(2) The statement: "Narrated by Al-Bayhaqi": All its narrators are trustworthy except Abu Ghanim Azhar ibn Ahmad ibn Hamdun, the teacher of Al-Hakim. Al-Bayhaqi mentioned him in a context of reliance, so he is acceptable according to him. This is an explicit text indicating the impermissibility of prayer without adding something to Surah Al-Fatihah. Jabir explained this addition as a Surah. It also indicates that Surah Al-Fatihah is not a pillar (rukn) of prayer, as Jabir equated it with the Sunnah of reciting a Surah, treating them equally. [Summarized from I’la al-Sunan]
Note 2
(۲) قوله: رواه البيهقي: رجاله كلهم ثقات ما خلا شيخ الحاكم أبي غانم أزهر بن أحمد بن حمدون، فقد ذكره البيهقي في موضع الاحتجاج به، فهو صالح له عنده، وهو نص صريح في عدم جواز الصلاة بدون ضم شيء إلى الفاتحة، وقد فسره جابر بسورة، وأيضًا يدل على أن الفاتحة ليست بركن في الصلاة؛ لأن جابرا جعلها من السنة مثل السورة، سواء بسواء، من تعليق إعلاء السنن ملخصا.
Note 1
ف(1): اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں یہ بات مشہور تھی کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہوتی اس سے ثابت ہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کا ہر نماز میں پڑھنا واجب ہے خواہ وہ نماز وتر ہو یا سنت یا نفل ان تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کا پڑھنا ضروری ہوگا، البتہ جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرض کی چار رکعت والی نماز یا تین رکعت والی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کا پڑھنا ضروری ہوگا اور آخری دو یا ایک رکعت میں صرف سورہ فاتحہ کا پڑھ لینا کافی ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھنے کے لئے فرض کی پہلی دو رکعتوں کو ہی معین کرلینا واجب ہے اگر کسی نے سورہ فاتحہ اور ضم سورہ یا ان میں سے کسی ایک کو فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں پڑھنا بھول گیا اور ان کی آخری دو رکعتوں میں پڑھ لیا تو چونکہ اس نے پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھنا جو واجب تھا سہواً ترک کر دیا ہے اس وجہ سے اس کو سجدہ سہو کرنا ضروری ہوگا۔ (عمدۃ القاری، ردالمحتار۔) مذکور الصدر حدیث جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس کو عبیداللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ نے اس طرح روایت کیا ہے کہ
Note 2
ف(2): عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں ایک تو یہ ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا رکن یعنی فرض نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے مذکورہ حدیث میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو ضم سورہ کی طرح سنت قرار دیا ہے فرض نہیں کہا ہے اور ظاہر ہے کہ کسی صحابی کا کسی چیز کو سنت قرار دینا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ وہ چیز فرض نہیں ہو سکتی، یہاں یہ بات واضح رہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کو جو سنت قرار دیا گیا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا پڑھنا واجب نہیں ہے اس لئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں عام طور پر دو اصطلاحیں تھیں، ایک فرض دوسرے سنت، اور سنت میں فرض کے سوا ہر چیز داخل تھی، خواہ وہ واجب ہو یا سنت موکدہ یا غیر موکدہ ہو یا نفل، غرض ان تمام چیزوں پر سنت کا اطلاق ہوتا تھا چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ کا اس حدیث میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کو سنت کہنا انہی معنوں میں تھا کہ یہ فرض نہیں ہیں، یعنی واجب ہیں۔ علاوہ ازیں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کے واجب ہونے کے متعلق حدیثیں ابھی اوپر گزر چکی ہیں۔ عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے دوسری چیز یہ ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اسی طرح ضم سورہ کا پڑھنا بھی واجب ہے اس لئے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کا ذکر ایک ہی حیثیت سے کیا ہے۔ (یہ مضمون تعلیق اعلاء السنن سے ماخوذ ہے۔) عبادہ بن صامت اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیثوں سے واضح ہو گیا کہ نماز میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کا پڑھنا ضروری ہے اور ان دونوں کے بغیر نماز جائز نہیں اس کی توضیح میں حضرت سفیان ابن عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ان مذکورہ حدیثوں کا حکم اس شخص کے لئے ہے جو تنہا نماز پڑھ رہا ہو۔ (مقتدی کے لئے یہ حکم نہیں ہے اس لئے کہ مقتدی کو خاموش رہنا چاہئے)۔ حضرت سفیان کے اس قول کی روایت ابوداؤد نے اپنی سنن میں کی ہے۔ واضح ہو کہ مذکورہ بالا حدیثوں کی توضیح میں جس طرح ابوداؤد نے اپنی سنن میں حضرت سفیان بن عیینہ کا قول نقل کیا ہے اسی طرح ترمذی نے بھی اپنی سنن میں حدیث لَا صَلٰوةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کے متعلق امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ حدیث تنہا نماز پڑھنے والے سے متعلق ہے مقتدی سے متعلق نہیں ہے اس لئے کہ مقتدی کو خاموش رہنا ضروری ہے۔) نیز ترمذی نے یہ بھی لکھا ہے کہ امام احمد بن حنبل نے اس خصوص میں جابر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ حدیث یہ ہے: ”مَنْ صَلّٰى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيْهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُوْنَ وَرَاءَ الْإِمَامِ“۔ (جو شخص نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوئی، مگر یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو (تنہا ہو) اور امام کے پیچھے (مقتدی کی حالت میں) نہ ہو۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث تنہا نماز پڑھنے والے سے متعلق ہے۔ واضح رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا اور جب جابر رضی اللہ عنہ جیسے صحابی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ ارشاد کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حدیث تنہا نماز پڑھنے والے سے متعلق ہے تو یہ حکم مقتدی سے متعلق نہ ہوگا۔ (یہ مضمون ترمذی سے ماخوذ ہے۔)