Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1181

(یہ باب نماز میں قرأت قرآن کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب نماز میں قرأت قرآن کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1181Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1349
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے خود سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے اور اپنے بندہ کے درمیان سورہ فاتحہ کے دو حصے کر دئیے ہیں اور جو کچھ میرا بندہ سوال کرے وہ اس کو دیا جائے گا، پس جب بندہ (1)الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ○ (ہر طرح کی تعریف خدائی کو سزاوار ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی اور جب بندہ (2)’’الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ‘‘ (جو نہایت رحم والا مہربان ہے) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری ثناء کی اور جب بندہ (3)مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ○ (جو روز جزاء کا حاکم ہے) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ (4)’’اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ‘‘ (اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے (کہ وہ میری عبادت کرتے ہوئے مجھ سے مدد مانگ رہا ہے) اور جو کچھ میرا بندہ سوال کرے وہ اس کو دیا جائے گا، اور جب بندہ (5)’’اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ، صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (6)غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ (7)وَلَا الضَّآلِّيْنَ ۔ (ہم کو دین کا سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اپنا فضل کیا، نہ ان کا جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ گمراہوں کا) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میرے بندے کی دعاء ہے جس کو وہ اپنے لئے کر رہا ہے اور میں اپنے بندہ کو جو وہ مانگے دوں گا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 395a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

That the Bismillah is not part of Al-Fatihah

(1) His statement: "That the Bismillah is not part of Al-Fatihah"—this will be further elaborated in the Book of Virtues of the Quran in the second chapter.

Note 1

قوله

(۱) قوله : أن التسمية ليست من الفاتحة: سيأتي تحقيقه في كتاب فضائل القرآن في الباب الثاني.

Note 1

ف: علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کے دو حصے کے ہیں پہلا حصہ جو ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ○ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ○ مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ○ کی تین آیتوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے مختص کر رکھا ہے اور دوسرا حصہ جو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ○ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ○ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ ○ کے تین آیتوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ سے مخصوص فرمایا اور ”اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ“ کو ان دونوں حصوں کی درمیانی آیت قرار دیا اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے بندہ کے درمیان مشترک رکھا۔ اس طرح سورہ فاتحہ کی سات آیتیں ہو گئیں۔ علامہ حلبی رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کا پہلا حصہ جو تین آیتوں پر مشتمل ہے اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ رب العالمین سے شروع فرمایا ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سے شروع نہیں فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اگر ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہ فاتحہ کو الحمد للہ رب العالمین سے شروع فرمانے کی بجائے ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سے شروع فرماتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایسا نہیں کیا تو صراحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے۔ تفصیل مذکورہ سے جب یہ ثابت ہو گیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے تو لازمی طور پر یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ’بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ‘ دوسری سورتوں کا بھی جزو نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ اور دوسری سورتوں کا جزو نہ ہونے کے بارے میں صرف دو ہی مذہب ہیں ایک مذہب یہ ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ اور دیگر تمام سورتوں کا جزو ہے اور دوسرا مذہب یہ ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اور اسی طرح دوسری سورتوں کا بھی جزو نہیں۔ ان دو مذہبوں کے سوا تیسرا مذہب کسی نے اس طرح اختیار نہیں کیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سورہ فاتحہ کا تو جزو نہ ہو اور دوسری سورتوں کا جزو ہو۔ صدر کی حدیث اور دلائل مذکورہ سے جن کو علامہ حلبی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزء نہیں تو لازماً یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کسی اور سورت کا بھی جزء نہیں اور یہی مذہب حنفی ہے۔ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ صدر کی حدیث سے قطعیت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزء نہیں اور یہ حدیث ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کے سورہ فاتحہ کا جزء نہ ہونے پر ایسی واضح دلیل ہے کہ جس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہوسکتی، علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کے سورہ فاتحہ کا جزء نہ ہونے پر اس حدیث سے زیادہ، بہتر اور واضح دلیل مجھے نہیں ملی۔