English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: “Verily, I have been prohibited from reciting the Qur’an while bowing or prostrating. As for bowing, glorify your Lord therein. And as for prostration, strive in supplication, for it is most likely to be answered.”
العربية
Typed, pending editorial approval
١٢٣٤ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَلَا إِنِّي نُهِيْتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظْمُوْا فِيْهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنْ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1408
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا خوب سن لو کہ رکوع یا سجدہ کی حالت میں مجھے قرآن پڑھنے کی ممانعت ہوگئی ہے
پس رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم کہہ کر خدا کی پاکی اور اس کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدہ میں سُبْحَانَ
رَبِّيَ الْأَعْلَى کہہ کر خوب عاجزی سے دعا و حمد و ثناء کیا کرو اس لئے کہ سجدہ میں جو دعا و حمد و ثناء کی جاتی
ہے وہ ضرور قبول کر لی جاتی ہے (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 479a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ“ سجدہ میں خوب دعا کیا کرو، یہاں لفظ ”الدعاء“ کے معنی دعا، حمد و ثناء کے کئے گئے ہیں اس لئے کہ دعا کی دو قسمیں ہیں ایک دعا، حمد و ثناء اور دوسری دعا، طلب سوال، دعا، حمد و ثناء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی اور شان عالی بیان کی جائے مثلاً ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى“ کہنا اور دعا طلب سوال یہ ہے کہ خارج نماز اپنے مقاصد اور ضرورتیں اللہ تعالیٰ سے مانگی جائیں۔ (یہ مضمون اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے۔)