English
It is also narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) said: "I have been commanded to prostrate on seven bones: the forehead—and he pointed to his nose—the two hands, the two knees, and the toes of the two feet. And we are not to gather our clothes or hair." [Narrated by Al-Bukhari in the chapter on prostrating on the nose]
Ali Al-Qari said: "The apparent meaning of the Hadith is that the forehead and the nose are considered as one part, because the Prophet (peace be upon him) said 'seven.' If they were considered two separate parts, it would make eight. Therefore, Abu Hanifah ruled that it is permissible to prostrate only on the nose, as the term 'prostration' applies to it." In Jam’ al-Athar: "It is understood from the indication that prostration on the nose is like prostration on the forehead."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٢٤٦ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُم: عَلَى الْجَبْهَةِ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ - وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلَا نَكُفَّ الثَّيَابَ وَالشَّعْرَ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي بَابِ السُّجُودِ عَلَى الْأَنْفِ».
قَالَ عَلِيُّ الْقَارِي: ظَاهِرُ الْحَدِيثِ أَنَّ الْجَبْهَةَ وَالْأَنْفَ فِي حُكْمِ عُضْرٍ وَاحِدٍ؛ لِأَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: «سَبْعَةُ، فَإِنْ جُعِلَا عُضْوَيْنَ صَارَتْ ثَمَانِيَ، فَمِنْ ثَمَّ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: يَجُوْزُ السَّجْدَةُ عَلَى الْأَنْفِ فَقَطْ لِوُقُوعِ اسْمِ السُجُودِ عَلَيْهِ انْتَقَى وَفِي جَامِعِ الْآثَارِ»: يُعْلَمُ مِنَ الْإِشَارَةِ أَنَّ السُّجُودَ عَلَى الْأَنْفِ كَالسُّجُودِ عَلَى الْجَبْهَةِ. انْتَهَى
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1422
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ نماز میں ان سات ہڈیوں کو زمین پر ٹیک کر سجدہ کیا کروں، پیشانی
فرماتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں
ہاتھوں کے پنجے اور دونوں گھٹنے اور دونوں پیروں کی انگلیاں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور یہ بھی
حکم ملا ہے کہ ہم نماز میں اپنے کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔ (اس کی روایت امام بخاری
نے باب السجود على الأنف میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 812 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ باب السجود کی پہلی حدیث جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اس میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ نمازی سات ہڈیوں پر سجدہ کیا کرے، ان سات ہڈیوں کے منجملہ اس حدیث میں صرف پیشانی کا ذکر ہے ناک کا ذکر نہیں ہے اور یہ دوسری حدیث جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے، اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی فرما کر ناک کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ناک اور پیشانی دونوں ایک عضو کے حکم میں ہیں اور چونکہ ناک پیشانی کا جزو ہے، اس لئے صرف ناک پر سجدہ کرنا گویا پیشانی پر سجدہ کرنا ہے۔ چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے بنایہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کی ایک اور روایت نقل فرمائی ہے جس میں الجبهة والانف (پیشانی اور ناک) کا ذکر ہے جس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ پیشانی اور ناک دونوں ایک ہی عضو ہیں، اس وجہ سے چاہے پیشانی پر سجدہ کریں یا ناک پر کریں دونوں صورتوں میں سجدہ ادا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ہڈیوں کا ذکر فرمایا ہے جن پر سجدہ کیا جاتا ہے اگر پیشانی اور ناک دو الگ عضو قرار دیئے جائیں تو ہڈیاں سات کی بجائے آٹھ ہو جائیں گی یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جیسے صرف پیشانی پر سجدہ کرنا جائز ہے ایسے ہی صرف ناک پر بھی بغیر عذر کے سجدہ کرنا جائز ہے (شرح وقایہ۔) اور صاحبین کے پاس بغیر عذر کے صرف ناک پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اور یہ بھی امام صاحب کا دوسرا قول ہے کہ صرف ناک پر بغیر عذر کے سجدہ کرنا جائز نہیں اور امام صاحب نے بعد میں اس دوسرے قول سے رجوع فرمایا ہے اس لئے فتویٰ اسی پر ہے کہ صرف ناک پر سجدہ بغیر عذر کے جائز نہیں بلکہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ ہونا چاہئے اور یہی افضل ہے جس پر آنے والی حدیثیں شاہد ہیں۔ (ردالمحتار، اشعۃ اللمعات مرقات، ملتقی، جامع الآثار۔)