Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1267

بَابُ السُّجُودِ وَفَضْلِهِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ السُّجُودِ وَفَضْلِهِ

Zujajat al-Masabih 1267Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٦٧ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُوْلُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 850 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 284 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں اور اسی طرح دوسری حدیثوں میں دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں جن دعاؤں کا پڑھنا مروی ہے، ان کے متعلق صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ ان دعاؤں کو ایسی نمازوں کے جلسہ میں پڑھنا مستحب ہے جو عموماً تنہا پڑھی جاتی ہیں جیسے تہجد، وتر، سنت اور نفل، اسی طرح کوئی شخص فرض نماز کو تنہا پڑھ رہا ہے تو وہ بھی اس کے جلسہ میں ان دعاؤں کو پڑھ سکتا ہے البتہ یہ نمازیں جب جماعت سے پڑھی جاتی ہیں تو ان کے جلسوں میں ان دعاؤں کو نہیں پڑھنا چاہئے تاکہ مقتدیوں پر بار نہ ہو، لیکن نماز کسوف کے جلسہ میں جماعت سے پڑھی جانے کے باوجود دعاؤں کو پڑھا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ نماز طوالت سے پڑھی جانے کے لئے ہی وضع ہوئی ہے، ایسا ہی اگر امام کسی ایسی جماعت کو نماز پڑھا رہا ہے جو سب ہم خیال ہوں اور کسی پر نماز کی طوالت بار نہیں تو اس کے جلسہ میں بھی امام اور مقتدی دونوں ان دعاؤں کو پڑھ سکتے ہیں۔