Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1275

(یہ باب التَّشَهُّد یعنی التحیات کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب التَّشَهُّد یعنی التحیات کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1275Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1452
ابومعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو تشہد کی اس طرح تعلیم دی تھی جس طرح قرآن کی سورتوں کی تعلیم دیا کرتے تھے (ابومعمر کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کی تعلیم دی تھی ”واضح ہو کہ یہ ترجمہ بخاری کے باب المصافحہ کی روایت وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ“ کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔) میرا ہاتھ (مصافحہ کی طرح) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ہائے مبارک میں تھا (وہ تشہد یہ ہے) (اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6265 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 402a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 289 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کئی طریقوں سے مروی ہے اور تشہد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی حدیثیں آئی ہیں ان سب میں سب سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے اکثر علماء صحابہ کا عمل اسی حدیث پر رہا ہے اور صحابہ کے بعد اکثر علماء تابعین بھی اسی پر عمل کیا کرتے تھے اور حضرت سفیان ثوری و حضرت ابن المبارک امام احمد اور امام اسحاق کا بھی تشہد کے بارے میں یہی قول ہے۔ (ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) اور حضرت بزار نے کہا ہے کہ تشہد کے بارے میں میرے پاس سب سے زیادہ صحیح حدیث یہی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو بیس سے زیادہ سندوں سے مروی ہے اور انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تشہد کے بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان سب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بڑھ کر قوی اور سند کے لحاظ سے اس حدیث سے بڑھ کر صحیح کوئی حدیث نہیں ملی اور راویوں کے اعتبار سے یہ حدیث سب سے زیادہ مشہور راویوں سے مروی ہے اور سند کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے کی تائید کرنے والی اس حدیث کی سند سے بڑھ کر کسی حدیث کی سند نہیں ہے۔ (بزار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) تعلیق مجد میں امام مسلم کا قول اس طرح مذکور ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی صحت پر اکثر فقہاء اور محدثین نے اس وجہ سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام شاگردوں نے آپ سے تشہد کے جن الفاظ کی روایت کی ہے وہ سب ایک ہی ہیں ان کے الفاظ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے راویوں نے جس تشہد کی روایت کی ہے اُس کو ان کے شاگردوں نے مختلف الفاظ سے نقل کیا ہے اور ان کے الفاظ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی طرح ایک نہیں ہیں اور محمد بن یحیٰ ذہلی نے کہا ہے کہ تشہد کے بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان سب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے اور طبرانی نے الکبیر میں بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد سے بہتر کوئی تشہد نہیں سنا اور حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔