Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1286

بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلِهَا

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلِهَا

Zujajat al-Masabih 1286Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٨٦ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ(رضي الله عنه) فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةٌ سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ ﷺ فَقُلْتُ: بَلَى، فَأَهْدِهَا لِي. فَقَالَ: سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ؛ فَإِنَّ اللهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ. قَالَ: «قُوْلُوْا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرُ: عَلَى إِبْرَاهِيمَ» فِي الْمَوْضِعَيْنِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3371 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 406a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 919 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 919

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): واضح ہو کہ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی روایت کئے ہوئے تشہد کے الفاظ پر ایک حرف کے بھی بڑھانے اور گھٹانے کو پسند نہیں فرماتے تھے اسی وجہ سے صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ التحیات میں ”اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ کے پڑھتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے پہلے لفظ ”سَيِّدَنَا“ نہیں بڑھانا چاہئے، البتہ درود ابراہیمی میں جو تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک سے پہلے لفظ ”سَيِّدِنَا“ بڑھانا چاہئے اور اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام مبارک کے پہلے بھی لفظ ”سَيِّدِنَا“، بڑھانا چاہئے ردالمحتار میں ایسا ہی مذکور ہے۔ ف(2): واضح رہے کہ درود ابراہیمی میں ”كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ“ کے بعد ”اِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ سے پہلے ”وَصَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمْ“ اور اسی طرح ”كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا اِبْرَاهِيمَ“ کے بعد ”اِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ سے پہلے ”وَبَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ“ کا جو اضافہ کیا گیا ہے وہ ترمذی کی ایک روایت سے ماخوذ ہے جس کے راوی عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ ہیں۔ (ملاحظہ ہو ترمذی کے ابواب الوتر میں ”مَاجَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلٰوةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“۔)