Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1302

Chapter on Sending Blessings upon the Prophet ﷺ and Its Virtue

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Sending Blessings upon the Prophet ﷺ and Its Virtue

Zujajat al-Masabih 1302Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is no one who sends greetings upon me except that Allah returns my soul to me so that I may respond to their greetings."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٣٠٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوْحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1482
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (میرے انتقال کے بعد میری روح ملاء اعلیٰ کی طرف متوجہ رہے گی اور اس کو ذات و صفات الٰہی میں استغراق اور محویت حاصل ہوگی ایسی حالت میں) جب کوئی تم میں سے مجھ پر سلام بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ مجھ کو اس استغراق سے اپنی اصلی حالت پر لوٹا دیں گے اور میں سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دوں گا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور بیہقی نے بھی دعوات کبیر میں اس کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2041 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 925 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 925

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ موت کیا چیز ہے، موت انتقال کا نام ہے کہ روح ایک جسم کو چھوڑ کر دوسرے جسم میں منتقل ہوتی ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ دو پنجرے ہیں اور پرندہ ایک ہے دونوں پنجروں کے دروازے کھول کر ان کے منہ کو ملا دیتے ہیں تو پرندہ ایک پنجرے سے دوسرے پنجرے میں منتقل ہو جاتا ہے، عالم برزخ میں اسی جسم خاکی کے ہو بہو ایک دوسرا جسم بھی تیار کیا گیا ہے، فرق یہ ہے کہ یہ جسم خاکی کثیف ہوتا ہے اور برزخ کا جسم لطیف ہوتا ہے، چنانچہ بعض اولیاء اللہ جیسے حضرت مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ آپ کو کئی جگہ دعوت دی گئی اور سب دعوتوں کا وقت ایک ہی تھا تو آپ ہر مقام پر اسی ایک ہی وقت میں ہر جگہ تشریف رکھتے ہوئے نظر آئے، ایک تو یہ جسم خاکی تھا اور دوسرے جو کئی جسم نظر آئے ان کو آپ عالم برزخ سے کرامتاً لے کر اس عالم میں دکھائی دیئے اور ہم کو خواب میں بھی مردہ کا جو جسم نظر آتا ہے وہ وہی عالم برزخ کا جسم لطیف ہے کہ اس جسم لطیف میں روح جسم خاکی سے منتقل ہوگئی ہے، اب خلاصہ موت کا یہ ہوا کہ روح خاکی جسم کا کثیف جسم چھوڑ کر برزخ کے لطیف جسم میں داخل ہوتی ہے اور یہی موت ہے، بظاہر یہ موت ہر انسان کو ہوتی ہے، عوام کو بھی اور شہداء کو بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی اس کی نسبت کی جاتی ہے اور یہ تینوں روحیں زندہ ہیں، پھر ان تینوں کی زندگی میں کیا فرق ہے؟ فرق یہ ہے کہ ہر انسان کی روح زندہ تو رہتی ہے مگر اس جسم خاکی کے ساتھ جب تک ہے وہ اعمال کے ذریعہ ترقی اور ثواب حاصل کر سکتی ہے، برزخ کے جسم میں جانے کے بعد عام انسان کی روح کی ترقی بند ہو جاتی ہے، نہ تو وہ برزخ میں کھاتا پیتا ہے اور نہ کوئی عمل کر کے باطنی ترقی حاصل کر سکتا ہے اس واسطے کہ یہ دار العمل نہیں ہے دار الجزاء ہے، گو ہر عام انسان کی روح زندہ ہے مگر کھانا پینا اور باطنی ترقی بند ہونے سے کہا جاتا ہے کہ وہ مر گیا ہے۔ بخلاف اس کے شہیدوں کی روح بھی خاکی جسم چھوڑ کر برزخ کے لطیف جسم میں چلی جاتی ہے، اس لئے شہید پر بھی موت کا اطلاق ہوتا ہے مگر اعمال کے ذریعہ سے اس کی ترقی بند نہیں ہوئی ہے جسم خاکی میں جیسے عمل کے ذریعہ سے ترقی کرتے تھے، شہید، برزخ کے جسم لطیف میں جانے کے بعد بھی ویسے ہی بدستور ترقی کرتے اور کھاتے پیتے بھی رہتے ہیں، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ شہید زندہ ہیں ان کی زندگی بھی کچھ فرض نہیں، مبالغہ نہیں، واقعی وہ زندہ ہیں، زندگی کے سارے آثار موجود ہیں ”يُرْزَقُونَ. فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ“ (اپنے خدا کے پاس اس کے فضل سے کھاتے پیتے اور خوشیاں مناتے ہیں) عمدہ عمدہ بہشت ہر قسم کی لذت اور آرام حاصل کر رہے ہیں جہاں چاہے گل گشت کرتے ہیں سبز پرندوں کے خول میں رہ کر ایسی ہی سیر کرتے ہیں جیسا کہ ہم آج کل ہوائی جہاز میں سیر کیا کرتے ہیں، اپنے اعمال سابقہ کی بہار لوٹ رہے ہیں ان کے اعمال گل و ریاحین اور حور جنت بن کر ان کے سامنے ہیں وہ ان سے لذت لے رہے ہیں عالم قدس میں ترقی کر رہے ہیں خدا کے قرب کے درجے بڑھ رہے ہیں، یہ ان کی آخرت کی زندگی ہے۔ بخلاف اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اقدس جسم مطہر سے نکلی اس لئے آپ پر بھی موت کا اطلاق ہوا، ارشاد باری تعالیٰ ہے ”إِنَّكَ مَيِّتٌ“ ”وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ“ (آپ پر بھی موت آنی ہے اور ان پر بھی) مگر عالم برزخ میں کوئی ایسا لطیف جسم نہیں تھا جو آپ کی روح مطہر کے لائق ہو، اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر نہ دنیا میں ہے نہ عالم برزخ میں اور نہ آخرت میں، جب عالم برزخ میں ایسا جسم لطیف نہیں رہا تو پھر اسی جسم خاکی میں روح مطہر کو واپس کر دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی جسم مطہر اس عالم سے عالم برزخ میں منتقل ہو گیا اور اسی وجہ سے آپ کو حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ آپ اسی جسم خاکی کے ساتھ عالم برزخ میں تشریف فرما ہیں، چونکہ عام انسانوں اور شہداء کی روحیں عالم برزخ میں دوسرے لطیف اجسام میں منتقل ہوئی ہیں اس لئے ان سے جسم خاکی کے لوازم بھی ٹوٹ گئے ہیں ان کی بیبیوں سے نکاح کیا جا سکتا ہے، ان کی میراث تقسیم ہو سکتی ہے، اس کے برخلاف چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی جسم خاکی عالم برزخ میں منتقل ہو گیا ہے اور آپ کے جسم خاکی کے لوازمات منقطع نہیں ہوئے ہیں، اس لئے ازواج مطہرات سے آپ کے بعد نکاح کرنا حرام قرار دیا گیا ہے، اور آپ کی میراث تقسیم نہیں کی گئی اگر ایسا کیا جاتا تو لازم آتا کہ زندہ کی بیوی سے نکاح کیا گیا اور زندہ کا مال تقسیم ہوا، عالم برزخ کے جسم میں جو لطافت پائی جاتی ہے وہ لطافت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جسم خاکی میں بدرجہ زائد موجود تھی، پھر عالم برزخ میں آپ کے لئے لطیف جسم کی کیا ضرورت؟ جیسے عالم برزخ کے جسم کو سایہ نہیں ہوتا ایسے ہی آپ کے جسم مبارک کو سایہ نہ تھا اور عالم برزخ کے لطیف جسم میں سے جیسے کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نکل جاتی ہے ایسے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عالم کے خاکی جسم میں سے پٹکا کمر مبارک سے باہر ہوگیا تھا اسی وجہ سے آپ کا ارشاد مبارک ہے جیسے میں سامنے سے دیکھتا ہوں ویسے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں، کیا کبھی آپ نے کسی کثیف جسم کو دیکھا ہے کہ وہ سامنے کی طرح پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہو؟ یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک ہی کی لطافت تھی کہ آپ سامنے کی طرح پیچھے سے بھی دیکھا کرتے تھے، آپ کے اس عالم کے جسم کے لطیف ہونے پر معراج شریف کا واقعہ بھی دلالت کرتا ہے، کوئی کثیف جسم ایسا نہیں پہنچ سکتا، جیسا کہ معراج میں آپ کا لطیف جسم کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ اس تمہید کے بعد مذکور الصدر حدیث کو اس طرح سمجھئے۔ کوئی مسلمان کہیں ہو جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے تو روح اقدس جو عالم برزخ میں احوال ملکوت کی طرف متوجہ رہتی ہے اور مشاہدہ رب العزت میں مستغرق ہے، سلام کا جواب دینے کے لئے روح مطہر کو مذکورہ حالت سے ایسا ہی افاقہ ہوتا ہے، جیسے دنیا میں وحی کے وقت عالم ملکوت کی طرف مشغولیت ہوتی تھی اور وحی ختم ہونے کے بعد پھر آپ اس عالم کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حدیث شریف میں ”رَدَّ اللّٰهُ عَلَيَّ رُوْحِيْ“ جو مذکور ہے اس میں رد روح سے، روح مطہر کا جسم سے نکلنا اور سلام کے وقت پھر جسم کی طرف آنا مراد نہیں ہے، بلکہ روح اقدس کا استغراق اور محویت سے اپنی اصلی حالت پر لوٹ آنا مراد ہے اگر روح اقدس کا جسم سے نکلنا اور پھر جسم میں داخل ہونا مراد ہوتا تو حدیث شریف میں ”رَدَّ اللّٰهُ عَلَيَّ رُوْحِيْ“ کے بجائے ”رَدَّ اللّٰهُ عَلٰى جِسْمِي رُوْحِيْ“ ارشاد فرمایا جاتا، یعنی میری روح کو میرے جسم کی طرف لوٹایا جاتا ہے، جب ایسا نہیں فرمایا گیا بلکہ یہ فرمایا گیا کہ ”روح میری طرف لوٹ آتی ہے“ تو اس کے یہی معنی ہوئے کہ مجھے اس عالم سے اس عالم کی طرف افاقہ ہوتا ہے اور سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کا جسم اقدس سے نکلنا اور پھر اسی جسم اقدس میں داخل ہونا اور آپ کا اسی جسم خاکی کے ساتھ اپنی قبر شریف میں تشریف فرما ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی جسم خاکی کے ساتھ عالم بالا کو اٹھا لئے گئے اور آپ اسی جسم خاکی کے ساتھ اس وقت عالم بالا میں تشریف فرما ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوپر اٹھائے جانے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی جسم خاکی کے ساتھ قبر مبارک میں تشریف رکھنے کی نظیر ملتی ہے، ہاں روح مبارک کا جسم اطہر سے نکلنا اور پھر جسم اقدس میں واپس ہونا اس کی نظیر بھی الحمدللہ حضرت ادریس علیہ السلام کے واقعہ میں موجود ہے اور اس واقعہ کی تفصیل ذیل میں تفسیر روح المعانی سے درج کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ مریم میں حضرت ادریس علیہ السلام کی شان میں ارشاد فرمایا ہے ”وَرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا“ (اور ہم نے اُن کو اونچی جگہ اُٹھالیا) تفسیر روح المعانی میں حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ”مَكَانًا عَلِيًّا“ سے مراد جنت ہے اس لئے کہ جنت سے بڑھ کر بلندی کسی مقام کو حاصل نہیں اور اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام جثّاً یعنی اس جسم خاکی کے ساتھ جنت میں پہنچائے گئے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے جنت میں اٹھائے جانے کی تفصیل یہ ہے کہ صاحب روح المعانی نے ابن المنذر کی تخریج سے عمر مولیٰ عفرۃ رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث نقل فرمائی ہے ،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام بڑے پرہیزگار نبی مرسل تھے، آپ نے ہفتہ کے سات دنوں کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا، تین دن لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتے اور باقی چار دن روئے زمین میں سیاحت فرماتے اور ایسی عبادت شاقہ فرمایا کرتے کہ تنہا آپ کی نیکیاں جو آسمان پر اٹھائی جاتی تھیں وہ اس زمانہ کے سارے انسانوں کی نیکیوں کے برابر ہوتی تھیں حضرت ادریس علیہ السلام کے تقویٰ عبادت اور نیکیوں کی وجہ سے ملک الموت کو آپ سے ملاقات کا شوق ہوا اور وہ آپ کی سیاحت کے دوران میں آپ کے پاس پہنچے اور آپ سے خواہش کی کہ اے اللہ کے نبی! اپنی صحبت بابرکت میں مجھے چند دن رہنے کی اجازت دیجئے! حضرت نے فرمایا کہ تمہارا گزارہ میرے ساتھ دشوار ہے لیکن اصرار پر آپ نے اجازت دے دی، دو دن تک ملک الموت آپ کی صحبت میں رہے، ان کے کھانا نہ کھانے اور عبادت سے نہ تھکنے کی وجہ حضرت ادریس علیہ السلام نے ان سے فرمایا: بخدا! تم انسان نہیں تو انہوں نے جواب دیا بیشک میں فرشتہ ہوں اور ملک الموت ہوں اور آپ سے للہ اور فی اللہ محبت رکھتا ہوں، یہ سن کر حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا کہ ان دو دنوں میں آپ نے کسی کی روح قبض تو نہیں کی؟ ملک الموت نے جواب دیا کیوں نہیں؟ جس کسی کی روح قبض کرنے کا مجھے حکم ہوا ہے میں نے اُس کی روح قبض کر رہی ہے، اور سچ تو یہ کہ پوری دنیا میرے سامنے ایسی ہے جیسا کہ آدمی کے سامنے دسترخوان بچھا ہوا اور وہ جس چیز کو چاہے کھا لیتا ہو، یہ سن کر حضرت ادریس علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا کہ میں تم کو اس ذات اقدس کی قسم دیتا ہوں جس کے سبب تم نے مجھ سے محبت کر رکھی ہے کہ تم میری ایک ضرورت کو پوری کرو، ملک الموت نے کہا یا نبی اللہ! فرمایئے وہ کیا حاجت ہے؟ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ موت کا مزہ چکھوں، پھر آپ میری روح مجھ پر واپس فرما دیں، ملک الموت نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ادریس علیہ السلام کی روح مبارک کو نکالا اور پھر واپس کر دیا، اس کے بعد حضرت ادریس علیہ السلام کی فرمائش پر آپ کو دوزخ اور جنت دکھائی، جب آپ نے جنت دیکھی، اور جنت کی خنکی، خوشبو اور گل و ریحان دیکھے تو ملک الموت سے فرمایا کہ مجھے جنت میں داخل کرو کہ میں کچھ کھاؤں اور پیوں تا کہ جنت کی طلب اور شوق کا مجھ میں اضافہ ہو جائے، الغرض حضرت ادریس علیہ السلام جنت میں داخل ہوئے میوے کھائے اور پانی پیا، اس کے بعد ملک الموت نے کہا اے نبی اللہ! اب تو تمہاری حاجت پوری ہو چکی ہے اب یہاں سے چلو کہ اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام کے ہمراہ جنت میں داخل فرما دیں، حضرت ادریس علیہ السلام نے جنت کے ایک درخت کو پکڑ لیا اور فرمایا میں اب یہاں سے نہیں نکلوں گا اور اگر تم چاہو تو میں تم سے اس بارے میں مباحثہ بھی کر سکتا ہوں جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اللہ تعالیٰ نے ملک الموت پر وحی نازل فرمائی کہ ادریس سے مباحثہ کرو! ملک الموت نے حضرت ادریس علیہ السلام سے فرمایا یا اے نبی اللہ! فرمایئے آپ کیا مباحثہ کرنا چاہتے ہیں؟ اس پر حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ“ (ہر شخص ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنے والا ہے) اور میں نے موت کا مزہ چکھ لیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا“ (تم میں سے کوئی ایسا بشر نہیں جو جہنم پر سے ہو کر نہ گزرے) اور میں جہنم پر سے گزر چکا ہوں) اور اہل جنت کیلئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ“ (اور جنتی کبھی جنت سے نکالے نہ جائیں گے) تو اللہ تعالیٰ نے جب مجھے جنت میں داخل فرما دیا ہے تو جنت سے کیسے نکل جاؤں؟ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت پر وحی نازل فرمائی کہ میرے بندے ادریس نے مباحثہ میں تم پر کامیابی حاصل کر لی، میری عزت و جلال کی قسم کہ یہ سب کچھ میرے علم میں تھا تو اے ملک الموت! ادریس کو چھوڑ دو کہ انہوں نے تم پر بڑی قوی حجت پیش کی ہے۔ اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کی توصیف اور شان میں جو ”وَرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا“ فرمایا ہے کہ اس کا اقتضاء بھی یہی ہے۔ علاوہ ازیں تفسیر در منثور میں بھی ایسی ہی تفصیل کے ساتھ ابن المنذر ہی کی تخریج سے عمر مولیٰ عفرۃ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوع موجود ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی روح مطہرہ جسم سے نکالی گئی پھر واپس کی گئی اور آپ اب اسی جسم خاکی کے ساتھ جنت میں تشریف فرما ہیں۔ الغرض اوپر کے دونوں واقعات سے جب یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی جسم خاکی کے ساتھ عالم بالا میں تشریف فرما ہیں، اور حضرت ادریس علیہ السلام کی روح مبارک آپ کے جسم اطہر سے نکالی گئی، پھر واپس کی گئی اور آپ اس وقت اسی جسم خاکی کے ساتھ جنت میں تشریف فرما ہیں تو اگر سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک جسم اطہر سے نکل کر پھر جسم اقدس میں داخل ہوئی اور آپ بھی اسی جسم خاکی کے ساتھ عالم برزخ میں اپنی قبر مبارک میں تشریف فرما ہیں تو کیا تعجب کی بات ہے؟