English
Al-Azraq ibn Qays reported: "An Imam led us in prayer—he was nicknamed Abu Rimthah. He said: 'I prayed this prayer or a similar prayer with the Messenger of Allah (peace be upon him).' He said: 'Abu Bakr and Umar stood in the front row to his right. A man who had witnessed the first Takbir of the prayer prayed with the Prophet (peace be upon him). When the Prophet finished, he turned to his right and left in the Salam until we saw the whiteness of his cheeks. Then he turned away like Abu Rimthah (meaning himself). The man who had joined the prayer from the first Takbir stood up to pray an additional prayer. Umar jumped up, grabbed him by the shoulders, shook him, and said: 'Sit down! The People of the Book were not destroyed except because they did not leave any distinction between their prayers.' The Prophet (peace be upon him) raised his gaze and said: 'Allah has guided you, O son of Al-Khattab.'" [Narrated by Abu Dawud]
In Sharh Al-Munyah: "Staying for the duration of saying اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ إِلى آخره 'O Allah, You are As-Salam...' is a virtue, but there is no evidence for staying longer than that. It is disliked to go against his usual practice, as understood from the hadith of Aisha."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٢٧ - وَعَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامُ لَنَا - يُكَنَّى أَبَا رِمْثَةَ - قَالَ: صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ (رضي الله عنهما) يَقُوْمَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكَبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ، فَصَلَّى نَبِيُّ اللهِ ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ، ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْئَةَ، يَعْنِي نَفْسَهُ.
فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكَبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبَيْهِ فَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ ؛ فَإِنَّهُ لَنْ يُهْلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَاتِهِمْ فَضْلُ. فَرَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ بَصَرَهُ فَقَالَ: «أَصَابَ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَابِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَفِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ»: إِنَّ الْمُكْثَ مِقْدَارَ اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ إِلى آخره» فَضْلُ، وَلَا دَلِيْلَ عَلَى الْمُكْثِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَيُكْرَهُ لِمُخَالَفَةِ مَا كَانَ دَأْبُهُ ، كَمَا هُوَ مَفْهُوْمُ حَدِيْثِ عَائِشَةَ ما . انْتَهَى
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1510
ازرق بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ایک امام
نے نماز پڑھائی جنہیں ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا (ازرق کا بیان ہے کہ) ابورمثہ نے کہا کہ میں
نے بھی (ایک دفعہ) یہ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی تھی، ابورمثہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی
فرمایا کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پہلی صف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھی جانب
کھڑے ہوئے تھے، ایک شخص تکبیر تحریمہ میں آ کر شریک نماز ہوا (اور وہ مسبوق نہ تھا) نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ختم نماز پر اپنے سیدھے اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آئی، ابورمثہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری
طرح قبلہ کی طرف سے پھر کر بیٹھے تو وہی شخص جو تکبیر تحریمہ میں آ کر شریک نماز ہوا تھا (بغیر کسی توقف
کے اور جگہ بدلنے کے) سنتیں ادا کرنے کے لئے فوراً کھڑا ہو گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے
اٹھے اور اس شخص کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر ہلا دیا اور فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، اہل کتاب اسی سبب سے تباہ
ہوئے کہ وہ فرضوں اور سنتوں کے درمیان (ایسا) فصل نہیں کرتے تھے (جس سے معلوم ہو سکے کہ
فرض ختم ہو چکے ہیں اور سنتیں شروع ہو رہی ہیں) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر اٹھا کر دیکھے
اور ارشاد فرمائے اے ابن الخطاب (تم نے سچ کہا) اللہ تعالیٰ ایسا ہی تمہارے ذریعہ سے لوگوں کی صحیح
رہبری فرمائے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1007 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں فرض نمازوں اور سنتوں کے درمیان فصل کرنے کا ذکر ہے، فصل کی کیا مقدار ہونی چاہئے اس کو شرح منیہ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ایسی فرض نمازوں کے ختم پر جن کے بعد سنتیں ہوں ”اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ“ کا پڑھنا یا اس کے مقدار کوئی اور مختصر دعاء کرنا فصل ہے اس طرح مختصر فصل کر کے سنتوں کا پڑھنا مسنون ہے، اگر مختصر دعاء کے بجائے طویل دعائیں کی جائیں یا دیگر اوراد و وظائف پڑھ کر سنتوں کی ادائی میں دیر کی جائے تو اس سے سنتیں ادا تو ہو جائیں گی لیکن سنتوں کے ادا کرنے کا جو مسنون وقت ہے وہ فوت ہو جائے گا اور تاخیر کے ساتھ سنتوں کی اس طرح ادائی مکروہ تنزیہی ہوگی۔ ردالمحتار میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔