العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٤٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) : نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنِ الْخَصْرِ فِي الصَّلَاةِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. لِذَلِكَ قَالَ فِي شَرْحِ النَّقَايَةِ وَيُكْرَهُ التَّخَصُّرُ، أَيْ وَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْخَاصِرَةِ. وقيل: التَّوَكُؤُ عَلَى الْمُخَصَّرَةِ، وَهِيَ الْعَصَا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 545a (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1219 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں لفظ ”خصر“ جو مذکور ہے اس کے معنی کولہوں پر ہاتھ رکھنا ہیں، اور اس معنی کو اکثر اہل علم نے اختیار کیا ہے اس کے علاوہ ”خصر“ کے معنی عصاء پر ٹیک دینے کے بھی لئے گئے ہیں۔ ردالمختار میں لکھا ہے کہ نماز میں کولہوں پر ہاتھ رکھنا مکروہ تحریمی ہے، اور خارج نماز کولہوں پر ہاتھ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے اور مرقات میں کہا ہے کہ نماز میں بلا ضرورت عصاء پر ٹیک دینا مکروہ ہے اور عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ ضرورتاً جیسے بوڑھے یا بیمار وغیرہ نماز میں بجز عصاء وغیرہ پر ٹیک دینے کے قیام پر قادر نہ ہوں تو ایسے لوگ بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بجائے عصا وغیرہ پر ٹیک دے کر قیام کریں۔ (عمدۃ القاری کی عبارت ختم ہوئی۔) اور خارج نماز عصاء پر ٹیک دینا مباح ہوگا جس پر دلیل قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول ہے (سورہ طٰہٰ پ16 ع1 میں)”هِيَ عَصَايَ اَتَوَكَّؤُا عَلَيْهَا“ (یہ میرا عصاء ہے جس پر ٹیک دیا کرتا ہوں) اصول میں ثابت ہے کہ قرآن کسی چیز کو بیان کرنے کے بعد اس کو رد نہ کرے تو وہ چیز ہماری شریعت میں بھی مباح رہتی ہے اسی لئے خارج نماز عصا پر ٹیک دینا مباح ہوگا۔