Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1352

بَابُ مَا لَا يَجُوْزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا يُبَاحُ مِنْهُ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ مَا لَا يَجُوْزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا يُبَاحُ مِنْهُ

Zujajat al-Masabih 1352Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٣٥٢ - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحُ الْحَصَى؛ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه. وَفِي الدُّرِّ الْمُخْتَارِ»: يُكْرَهُ كُلُّ عَمَلٍ قَلِيْلٍ بِلَا عُذْرٍ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 379 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 945 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1027 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1191 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ بحالت نماز بلا ضرورت سجدہ کی جگہ سے کنکریاں صاف نہ کرے اس لئے کہ نماز کی حالت میں ہر عمل قلیل بلا عذر مکروہ ہے، اس لئے معلوم کرنا چاہئے کہ عمل قلیل کیا ہے اور عمل کثیر کیا ہے؟ عمل کثیر یہ ہے کہ جس کے کرنے والے کو دور سے دیکھنے والے سمجھیں کہ یہ نماز میں نہیں ہے، جیسے نماز کی حالت میں دونوں ہاتھوں سے عمامہ باندھنا وغیرہ اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، البتہ بحالت نماز ایسا عمل کثیر جو اعمال نماز سے ہو جیسے ایک رکعت میں دو رکوع یا تین سجدے کرنا، اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی، اس لئے کہ یہ اعمال نماز سے ہے، اسی طرح ایسے عمل کثیر سے بھی نماز فاسد نہیں ہوتی جو اصلاح نماز کے لئے ہو، جیسے نماز کی حالت میں وضوء ٹوٹ جانے سے وضوء کرنے کے لئے چلنا اگرچہ کہ یہ بھی عمل کثیر ہے مگر اصلاح نماز کے لئے ہے اس لئے اس سے بھی نماز فاسد نہیں ہوگی۔ اور عمل قلیل یہ ہے کہ جس کے کرنے والے کے متعلق دور سے دیکھنے والے کو شک ہو کہ یہ نماز میں ہے یا نہیں، جیسے نمازی کی حالت میں سجدہ کی جگہ سے ایک ہاتھ سے کنکریاں صاف کرنا اگر بلا ضرورت کنکریاں صاف کی جائیں تو نماز مکروہ ہوگی البتہ ضرورت پر صرف ایک بار کنکریاں صاف کی جاسکتی ہیں۔ (ردالمختار، اعلاء السنن۔)