العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٥٤ - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَؤُمُ النَّاسَ وَأُمَامَهُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ، فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُوْدِ أَعَادَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي التَّعْلِيقِ الْمُمَجَّدِ»: وَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ مَا يُخَالِفُ قَوَاعِدَ الشَّرْعِ ؛ لِأَنَّ الْآدَمِيَّ طَاهِرُ، وَثِيَابُ الْأَطْفَالِ وَأَجْسَادُهُمْ مَحْمُوْلَةٌ عَلَى الطَّهَارَةِ، وَالْأَعْمَالُ فِي الصَّلَاةِ لَا تُبْطِلُهَا إِذَا قَلَّتْ أَوْ تَفَرَّقَتْ وَإِنَّمَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِبَيَانِ الْجَوَازِ، كَذَا فِي شَرْحِ الزُّرْقَانِي»، وَمِثْلُهُ فِي رَدَّ الْمُحْتَارِ» عَنِ الْحِلْيَةِ». وَفِي عُمْدَةِ الْقَارِي»: عَنِ الْبَدَائِعِ»: لَا يُكْرَهُ لِوَاحِدٍ مِنَّا لَوْ فَعَلَ ذَلِكَ عِنْدَ الحَاجَةِ، أَمَّا بِدُوْنِ الْحَاجَةِ فَمَكْرُوْهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 516 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 543a (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.460
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: التعلیق المجید میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف میں کوئی ایسی چیز مذکور نہیں ہے جو قواعد شرع شریف کے خلاف ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز میں بچوں کے جسم اور ان کے کپڑے، جب تک نجاست کا یقین نہ ہو پاک ہی سمجھے جائیں گے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بچی کو اٹھانا طہارت کی شرط کے خلاف نہ ہوگا اسی طرح نماز کے اندر عمل قلیل ایک ہی رکن میں تین مرتبہ نہ کیا جائے بلکہ متفرق ارکان میں متفرق طور پر کیا جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی یہاں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ایسا ہی متفرق ارکان میں متفرق طور پر ہوا ہے اس لئے مفسد نماز نہیں۔ یہ شرح الزرقانی میں مذکور ہے اور ردالمحتار میں بھی اسی طرح حلیہ سے منقول ہے اور عمدۃ القاری میں بدائع کے حوالے سے مذکور ہے کہ ہم میں سے کسی کے لئے بھی ضرورت کے وقت ایسا عمل قلیل مکروہ نہیں البتہ بلا ضرورت نماز میں عمل قلیل مکروہ ہوگا۔