اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1548
عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے اپنے مرفوعاً
روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز میں چھینک، اونگھ، جمائی،
حیض، قے اور نکسیر یہ سب شیطان کی طرف سے ہیں۔(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 370 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ نماز میں چھینک، اونگھ، جمائی، حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ تمام چیزیں جب نماز میں واقع ہوں تو شیطان کی خوشی کا سبب ہوتی ہیں اول الذکر تین چیزوں یعنی چھینک، اونگھ اور جمائی سے تو نماز مکروہ ہوتی ہے اور آخر الذکر تین چیزوں یعنی حیض، قے اور نکسیر سے تو نماز فاسد ہی ہوجاتی ہے۔ اس حدیث شریف میں دوسری اور چیزوں کے ساتھ نماز میں چھینک آنے کو جو شیطان کی طرف سے ہونا ارشاد ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حالت میں چھینک آنے سے توجہ الی اللہ، حضور قلب اور استغراق میں فرق پیدا ہوجاتا ہے ورنہ خارج نماز تو چھینک پسندیدہ ہے جیسا کہ ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے ”إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ“(اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے۔) خلاصہ بحث یہ ہے کہ چھینک خارج نماز مطلقاً محبوب ہے اور داخل نماز مطلقاً مکروہ ہے۔(مرقات، اشعۃ اللمعات۔)