Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

کتاب ایمان کے بیان میں

Hadith 137

(کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مضبوطی سے جمے رہنے کا بیان)

In this book

Current reading

کتاب ایمان کے بیان میں

(کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مضبوطی سے جمے رہنے کا بیان)

Zujajat al-Masabih 137Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 148
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند فرشتے حاضر ہوئے اور آپ نیند میں تھے، انہوں نے کہا کہ تمہارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مثال ہے اس کو بیان کرو، بعض فرشتوں نے کہا کہ وہ نیند میں ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کی آنکھ سو رہی ہے لیکن دل بیدار ہے تو پھر وہ کہنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک مکان تعمیر کیا اور مکان میں کھانا تیار کیا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا جس نے دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کیا تو مکان میں داخل ہوا اور کھانا کھایا اور جس نے دعوت قبول نہیں کی تو وہ نہ گھر میں داخل ہوا اور نہ کھانا کھایا، فرشتوں نے آپس میں کہا کہ اس کی وضاحت بیان کرو تاکہ وہ اس کو سمجھیں، بعضوں نے کہا: وہ تو سو رہے ہیں اور بعضوں نے کہا کہ آنکھ نیند میں ہے اور دل بیدار ہے، فرشتوں نے اس مثال کی وضاحت یوں کی کہ وہ مکان جنت ہے اور (بلانے والے) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں فرق کرنے والے ہیں یعنی مومن اور کافر میں فرق کرنے والے ہیں۔ (بخاری نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7281 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرق کرنے والے ہیں کہ فرق کردیا کافر اور مومن میں، حق اور باطل میں، صالح اور ⟦?⟧ میں، کھانے سے مراد بہشت کی نعمتیں ہیں اور شخص سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں، یہ دونوں باتیں بالکل ظاہر تھیں اس لئے فرشتوں نے ان کی وضاحت نہیں کی۔12