English
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that a blind man came to the Prophet (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, I have no one to lead me to the mosque." He asked the Messenger of Allah (peace be upon him) for permission to pray in his house, and he granted him permission. When he turned to leave, the Prophet called him back and asked: "Do you hear the call to prayer?" He said, "Yes." The Prophet said: "Then respond to it."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٤٣٠ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدُ يَقُوْدُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَنْ يُرَخَّصَ لَهُ فَيُصَلِّي فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَأَجِبْ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1639
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کئے: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مجھے ہاتھ پکڑ کر مسجد کی طرف لانے والا کوئی نہیں ملتا، اس لئے انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھ لینے کی اجازت دیجئے (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دیدی، جب وہ واپس ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے انہیں بلا کر ارشاد فرمایا: کیا تمہیں اذان کی آواز (اپنے گھر میں) سنائی دیتی ہے؟ انہوں نے
عرض کیا: جی ہاں! (سنائی دیتی ہے) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تو تم کو مسجد کی
طرف کسی طرح بھی آنا ہوگا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 653 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1054 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 1054
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نابینا صحابی کے اجازت طلب کرنے کے باوجود بھی ترک جماعت کی اجازت نہیں دی، اب رہی یہ بات کہ نابینائی جماعت میں حاضر ہونے کے لئے عذر ہے تو اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ عذر دو قسم کے ہیں: ایک وہ عذر کہ جن کی وجہ سے جماعت میں آنا تو ممکن ہے لیکن آنے میں مشقت اور سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اس لئے اس صورت میں جماعت میں حاضر ہونے کا وجوب تو باقی رہتا ہے اگر تکلیف اور مشقت کی وجہ سے جماعت میں حاضر نہ ہو تو رخصت ہے اور اجازت ہے۔ چنانچہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں حاضر نہ ہونے کی جو اجازت دی ہے وہ اس لئے ہے کہ نابینائی عذر ہے، اگر کوئی نابینا ہونے کی وجہ سے حاضر جماعت نہ ہو تو اس کے لئے رخصت ہے لیکن وجوب باقی ہے اور مشقت اور تکلیف کے باوجود جماعت میں حاضر ہو تو اس کے لئے عزیمت ہے، یعنی بڑی ہمت کی بات ہے اور ثواب کثیر کے حصول کا باعث ہے اور نابینا کے جماعت میں حاضر ہونے کی عزیمت پر صدر کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نابینا صحابی کو اجازت طلب کرنے کے باوجود بھی ترک جماعت کی اجازت نہیں دی۔ اب رہا جماعت میں حاضر نہ ہونے کے عذر کی دوسری قسم وہ عذر ہے جس کی وجہ سے جماعت میں حاضر ہونا ممکن ہی نہیں ہے جیسے فالج وغیرہ۔ اس عذر میں عذر والے سے جماعت میں شریک ہونے کا وجوب بھی ساقط ہو جاتا ہے اور جماعت میں نہ آنے سے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (مرقات، ردالمحتار اور اعلاء السنن)۔