Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1525

Chapter on What is Required of the Follower and the Ruling on One Who Joins Prayer Late

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on What is Required of the Follower and the Ruling on One Who Joins Prayer Late

Zujajat al-Masabih 1525Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1745
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب (مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے) ایسے وقت حاضر ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جماعت سے) نماز پڑھ چکے تھے (جو لوگ جماعت کے پابند ہوتے ہیں ان کو جماعت نہ ملنے کا بہت رنج ہوتا ہے، یہ محسوس فرما کر جماعت ہونے کے بعد آنے والے صحابی کی تسلی کے لئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (چونکہ ان کو جماعت نہیں ملی ہے اس لئے) کوئی صاحب ان پر احسان کر کے ان کے ساتھ صورۃً جماعت بنا کر نماز ادا کریں (اس سے جماعت نہ ملنے والے کو جماعت کا جو ثواب ملے گا وہ پہلی جماعت کا ثواب نہ ہوگا مگر پھر بھی جو کچھ اجر ملے گا، جو شخص شریک ہو کر ان کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے سمجھا جائے گا کہ یہ شخص اس پر ثواب خیرات کر رہا ہے) یہ سن کر ایک صحابی کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ جماعت بنا کر نماز ادا کئے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 220 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 574 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو، اس مسجد میں دوبارہ پھر جماعت کرنا حنفی، شافعی اور مالکی تینوں (عمدۃ القاری، اعلاء السنن بحوالہ رحمۃ الامۃ) مذاہب میں مکروہ تحریمی ہے، جماعت ثانیہ کا مکروہ تحریمی ہونا رد المحتار میں مذکور ہے۔ اب رہا اس حدیث سے بظاہر جماعت ثانیہ کا جائز ہونا جو معلوم ہو رہا ہے، اس لئے صحیح نہیں ہے کہ اس حدیث میں جس جماعت کا ذکر ہے وہ حقیقۃً جماعت نہیں ہے بلکہ صورۃً جماعت ہے۔ اور صورۃً جماعت یہ ہے کہ امام تو فرض نماز ادا کر رہا ہو، اور مقتدی نفل کی نیت سے اس کی اقتداء کر رہا ہے اور حقیقۃً جماعت یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں فرض نماز ادا کر رہے ہوں اور ظاہر ہے کہ یہاں صورۃً جماعت ہوئی ہے اور ایسی جماعت کے بارے میں ہمارے ائمہ میں سے کسی امام نے کراہت نہیں بتائی ہے، اس کے برخلاف حقیقۃً جماعت کی صورت میں جب کہ کوئی امام اور مقتدی دونوں فرض نماز ادا کرنے کے لئے جماعت ثانیہ قائم کریں تو ایسی جماعت کو اکثر ائمہ نے مکروہ قرار دیا ہے، جیسا کہ ابھی اوپر بیان ہو چکا ہے۔ (یہ بذل المجہود میں مذکور ہے۔)