English
It is narrated from Al-Aswad ibn Jabir, from his father, that two men prayed Dhuhr in their homes during the time of the Prophet (peace be upon him), thinking that the people had already prayed. Then they came to the mosque and found the Prophet (peace be upon him) leading the prayer. They sat in a corner of the mosque, thinking that the prayer was not valid for them. When the Prophet (peace be upon him) finished, he saw them and sent for them. They were brought to him, trembling with fear that something had gone wrong. He asked them, and they informed him of what had happened. He said: "If you do that, pray with the people, and consider the first prayer as the obligatory one." [Narrated by our Imam Abu Hanifah]
In a narration by Muhammad: "Consider the first prayer as the obligatory one and the second as voluntary."
In a narration by Al-Bayhaqi: "If you pray in your homes and then come to the imam, pray with him, and let that be voluntary, while the one in your homes is the obligatory prayer."
In a narration by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i: The Prophet (peace be upon him) said: "What prevented you from praying with us?" They said: "O Messenger of Allah, we had already prayed in our homes." He said: "Do not do that. If you pray in your homes and then come to a mosque with a congregation, pray with them, for it will be voluntary for you."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٥٢٩ - وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيْهِ : أَنَّ رَجُلَيْنِ صَلَّيَا الظُّهْرَ فِي بُيُؤْتِهِمَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ وَهُمَا يَرَيَانِ أَنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا، ثُمَّ أَتَيَا الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي الصَّلَاةِ، فَقَعَدَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ وَهُمَا يَرَيَانِ أَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَحِلُّ لَهُمَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ ﷺ رَآهُمَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، فَجِيْءَ بِهِمَا وَفَرَائِصُهُمَا تُرْعَدُ؛ مَخَافَةَ أَنْ يَكُوْنَ قَدْ حَدَثَ فِي أَمْرِهِمَا شَيْءٌ، فَسَأَلَهُمَا، فَأَخْبَرَاهُ الخَبَرَ ، فَقَالَ: إِذَا فَعَلْتُمَا ذَلِكَ فَصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ، وَاجْعَلَا الْأَوْلَى هِيَ الْفَرِيضَةَ. رَوَاهُ إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ.
وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدٍ: وَاجْعَلُوا الْأَوْلَى فَرِيضَةً، وَهَذِهِ نَافِلَةً».
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبَيْهَقِي: «إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِجَالِكُمَا ، ثُمَّ أَتَيْتُمَا الْإِمَامَ فَصَلِّيَا مَعَهُ، فَتَكُوْنَ لَكُمَا نَافِلَةً، وَالَّتِي فِي رِحَالِكُمَا فَرِيضَةً».
وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِذِي وَأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِي: فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلَّيَا مَعَنَا؟» فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ، فَصَلَّيَا مَعَهُمْ؛ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
5/1750-1753۔ اسود بن جابر رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت جابرؓ سے روایت
کرتے ہیں (ایک دن کا واقعہ ہے کہ) دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ظہر کی
نماز اپنے اپنے گھر میں اس خیال سے پڑھ لیتے تھے کہ (مسجد میں) لوگ (جماعت سے نماز) پڑھ
چکے ہوں گے، پھر یہ دونوں جب مسجد کو آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز
پڑھا رہے ہیں ان دونوں نے اپنے خیال میں سمجھا کہ (ایک دفعہ تنہا نماز پڑھ لینے کے بعد دوبارہ)
اسی نماز کو جماعت سے پڑھنا جائز نہیں ہے، اسی لئے یہ دونوں ایک طرف مسجد میں (نماز میں شریک
ہوئے بغیر ہی) بیٹھ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ان
دونوں کو دیکھا کہ (جماعت میں شریک ہوئے بغیر علیحدہ) بیٹھے ہوئے ہیں، اس لئے آپ نے کسی کو
بھیجا کہ ان دونوں کو بلا لائے، وہ دونوں جب خدمت اقدس میں حاضر کئے گئے تو ان دونوں کی
حالت یہ تھی کہ وہ خوف و ہیبت سے کانپ رہے تھے کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی نیا حکم تو نہیں
نازل ہوا ہے؟ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ان سے دریافت فرمایا کہ جماعت میں شریک نہ ہو کر
علیحدہ بیٹھنے کی کیا وجہ ہے؟ تو انھوں نے اپنا سارا قصہ کہہ سنایا (اور ظاہر کیا کہ چونکہ ہم گھروں سے نماز
پڑھ کر آئے تھے اس لئے پھر دوبارہ جماعت میں شریک ہو کر نماز پڑھنے کو ناجائز سمجھے تھے حضور! ہم
اسی وجہ سے علیحدہ بیٹھے ہوئے تھے یہ سن کر) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: سنو! جب تم
نے (فرض کی نیت سے) تنہا نماز پڑھ لی ہو اور پھر جماعت میں شریک ہونے کا موقع آئے تو دوبارہ
جماعت میں شریک ہوجایا کرو، اور پہلے جو نماز پڑھ چکے ہو اس کو ہی فرض سمجھو اور جماعت (جیسا کہ
موطا امام محمد میں مذکور ہے۔12) سے جو نماز پڑھی جائے گی اس کو نفل خیال کرو۔ اس کی روایت
ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کی ہے اور بیہقی، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت
کی ہے اور شرح زرقانی میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ فجر، عصر اور مغرب اس حکم
سے مستثنیٰ ہیں، اس لئے ان نمازوں کو ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد پھر دوبارہ جماعت سے نہیں پڑھنا
چاہئے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 219 (unverified) 60% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 575 (unverified) 60% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 858 (unverified) 55% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1152 (unverified) 55% confidence
Mishkat (candidate) 1152
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی فرض نماز کو تنہا پڑھ کر مسجد کو پہنچے اور دیکھے کہ بعد میں جماعت ہو رہی ہے تو وہ نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہوجائے مگر یہ حکم اُس شخص سے متعلق ہے جو تنہا نماز پڑھ چکا ہو، اور اگر کوئی شخص کسی مسجد میں جماعت سے نماز ادا کر کے کسی دوسری مسجد میں ایسے وقت پہنچے کہ وہاں وہی نماز جماعت سے ہو رہی ہو تو ایسے شخص کو جماعت میں شریک نہ ہونا چاہئے، امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ تینوں اسی کے قائل ہیں۔ (یہ اعلاء السنن میں مذکور ہیں)