اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1806
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کے دو رکعت سنت پڑھنے کے بعد اگر کوئی ضرورت ہوتی تو مجھ سے دینی کلام
کرتے، ورنہ فجر کی فرض کے لئے تشریف لے جاتے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
(یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 418 (unverified) 91% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 3
(3) His statement: "He would talk to me" – Ali Al-Qari said: "His speech was undoubtedly from the speech of the Hereafter. As for worldly speech, it is undoubtedly contrary to the best practice at all times, let alone between prayers, because the wisdom behind the Sunnah is to prepare for a perfect state and dispel heedlessness, so one enters the obligatory prayer with full presence and delight."
Note 3
(۳) قوله: كلمني: قال علي القاري: كلامه لا شك أنه من كلام الآخرة. وأما كلام الدنيا فلا شك أنه خلاف الأولى دائما، فضلا عما بين الصلاتين؛ لأن الحكمة في وضع السنة أن يتهيأ لكمال الحالة وطرد الغفلة فيدخل في الفريضة على كمال الحضور واللذة.
Note 1
ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ان مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی تو سنت فجر کے بعد پہلے کروٹ لیٹے ہیں اور کبھی سنت فجر کے بعد بھی کروٹ لیٹے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ نہ تو سنت فجر سے پہلے لیٹے اور نہ تو سنت فجر کے بعد، ان مختلف احوال سے معلوم ہوا کہ حضور کبھی کبھی صرف استراحت یعنی آرام لینے اور تکان دور کرنے کے لئے لیٹے ہیں، اگر آپ ہمیشہ لیٹتے تو اس سے مسئلہ بنتا اور یہ فعل سنت ہوتا۔