اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 170
عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور
ایسا بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا کہ آنسو نکل پڑے اور دل خوف سے لرز گئے، ایک شخص نے کہا کہ یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وعظ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک رخصت کرنے والے شخص کا
وعظ ہے، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کچھ وصیت فرمائیے، ارشاد ہوا: میں تم کو خدا سے
ڈرتے رہنے اور (حاکم کی) اطاعت اور تابعداری کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ تمہارا امیر حبشی
غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لئے میرے بعد جو بھی تم میں زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات
دیکھے گا، ایسی حالت میں تم پر میری سنت اور نیک ہدایت یافتہ خلفاء کا طریقہ اختیار کرنا
ضروری ہوگا، ان طریقوں کو دانتوں سے مضبوط پکڑ لو، اور نئی نئی باتوں سے بچتے رہو، اس
لئے کہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (امام احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن
ماجہ نے اس کی روایت کی ہے اور ترمذی اور ابن ماجہ میں نماز پڑھانے کا ذکر نہیں ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4607 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2676 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 165 (unverified) 98% confidence
Mishkat (candidate) 165
Confidence and text similarity are not editorial verification.