Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1631

Chapter on Moderation in Actions

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Moderation in Actions

Zujajat al-Masabih 1631Volume 1

English

Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Pray standing. If you cannot, then pray sitting. If you cannot, then pray on your side." [Narrated by Bukhari] In a version by Nasa'i: "If you cannot, then pray lying on your back.1 " "Allah does not burden a soul beyond its capacity." (Al-Baqarah, 2:286)

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٣١ - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «صَلَّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِي: «فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَمُسْتَلْقِيًا1 {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} (البقرة: ٢٨٦).

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1875Noor 1876
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (مجھے بواسیر کا مرض تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ نماز کس طرح ادا کروں تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اگر تم فرض نماز پڑھ رہے ہو تو) کھڑے ہو کر پڑھو (اس لئے کہ فرض نماز میں قیام فرض ہے بخلاف نفل کے کہ اس میں کھڑے رہنا افضل ہے فرض نہیں ہے، اگر بغیر عذر کے نفل بیٹھ کر پڑھیں بھی تو جائز ہے مگر کھڑے رہ کر پڑھنے میں جو ثواب ہے نفل بیٹھ کر پڑھنے میں وہ ثواب نہیں بلکہ آدھا ثواب ملے گا) اگر کسی عذر سے فرض کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر نماز پڑھو، بیٹھ کر پڑھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو (قبلہ رو) کروٹ لیٹ کر پڑھو (کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنا جائز ہے مگر افضل نہیں ہے، بلکہ چت لیٹ کر پڑھنا افضل ہے اس کی تائید ذیل میں نسائی کی حدیث سے ہوتی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔) نسائی کی وہ حدیث یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم (کسی عذر سے) بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکو تو قبلہ رو چت لیٹ کر (اس طرح) نماز پڑھو (کہ سر مشرق کی طرف ہو اور پیر قبلہ کی طرف، سر کے نیچے تکیہ رکھ کر سر کو کسی قدر اونچا کیا جائے اور پیروں کو احترام قبلہ کی وجہ سے لمبے نہ رکھیں بلکہ پیروں کو کھینچ کر گھٹنوں کو اس طرح کھڑا کریں کہ پیر ایڑھی سمیت زمین پر ٹکے رہیں) ”لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا“ اللہ تعالیٰ کسی شخص پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اسی قدر جس کے اٹھانے کی اس کو طاقت ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1117 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1248 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1248

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) The ruling on lying on one's back is that it is preferable in our school of thought over lying on one's side. The hadith of Imran is not a general proof, as it was addressed to him specifically due to his illness (hemorrhoids), which prevented him from lying on his back. Therefore, it is not a general ruling for the Ummah. Preference is given to the meaning, which is that lying on one's back allows one to face the Qiblah, fulfilling the obligation, unlike lying on one's side. For example, if one prostrates while lying on their back, it is directed toward the Qiblah, whereas lying on one's side would not face the Qiblah. This is mentioned in Al-Maraqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فمستلقيا واعلم أن الاستلقاء في مذهبنا أفضل من الاضطجاع، ولا ينتهض حديث عمران حجة على العموم؛ فإنه خطاب له، وكان مرضه البواسير، وهو يمنع الاستلقاء، فلا يكون خطابه خطابا للأمة، فوجب الترجيحبالمعنى، وهو أن المستلقي تقع إشارته إلى جهة القبلة، وبه يتأدى الفرض، بخلاف الآخر. ألا ترى أنه لو حققه مستلقيا كان سجودا وركوعا إلى القبلة، ولو أتمه على جنب كان إلى غير جهتها. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: صدر کی دونوں حدیثوں سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا ہو، اس کے بارے میں ایک حدیث میں کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ اور دوسری حدیث میں چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حنفی مذہب میں دونوں طرح سے نماز پڑھنا جائز ہے، چاہیں تو کروٹ لیٹ کر نماز پڑھیں، یا چت لیٹ کر، مگر چت لیٹ کر نماز پڑھنا افضل ہے، افضل ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم خاص عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو ان کے چت لیٹنے پر قادر نہ ہونے سے دیا گیا تھا چونکہ وہ بواسیر کے مرض کا شکار تھے اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم عام طور پر دیا گیا ہے، عمران رضی اللہ عنہ کے لئے جو چیز افضل قرار دی گئی ہے اس کو سب بیماروں کے لئے افضل قرار دینا مناسب نہیں بلکہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے کو ترجیح دے کر افضل قرار دینا چاہئے، اس لئے کہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے اشارہ کا موقع آتا ہے تو قبلہ کی طرف ہی رخ رہتا ہے، اور کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے اشارہ کا موقع آتا ہے تو قبلہ سے رخ ہٹ جاتا ہے، حالانکہ نماز میں استقبال قبلہ فرض ہے، چونکہ کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی جہت باقی نہیں رہتی، اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی جہت باقی رہتی ہے، اسی لئے چت لیٹ کر نماز پڑھنا کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور یہی مذہب حنفی ہے (مرقات)۔