English
Malik, who reported that a man asked Ibn Umar (may Allah be pleased with him): "Is Witr obligatory?" Abdullah (Ibn Umar) replied: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Witr, and the Muslims prayed Witr." The man kept repeating the question, and Abdullah kept replying: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Witr, and the Muslims prayed Witr." 5
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Muwatta Malik 268 (unverified) 30% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1287 (unverified) 20% confidence
Mishkat (candidate) 1287
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 5
(5) The consistent practice of the Prophet (ﷺ) and the Muslims, especially the companions and successors, is evidence for the obligation of Witr.
Note 3
(۳) قوله : قد أوتر إلخ : فمواظبته لا سيما مع مواظبة أصحابه والتابعين دليل على وجوب الوتر.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ وتر پڑھتے تھے اور مسلمان بھی ہمیشہ وتر پڑھتے رہے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ وتر پڑھنا مسلمانوں کا طریقہ ہے، اور جو شخص وتر ترک کرتا ہے تو وہ مسلمانوں کے طریقے سے ہٹ کر دوسرا طریقہ اختیار کرتا ہے، جس پر قرآن میں سخت وعید ہے اور جس کام کے ترک کرنے پر وعید آتی ہے اس کام کا کرنا واجب ہوتا ہے، اس لئے وتر واجب ہے، اب رہی یہ بات کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صراحت کے ساتھ سائل کے جواب میں وتر کے واجب ہونے کو کیوں نہیں بیان کیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں سائل پنجگانہ نمازوں کی طرح وتر کو فرض نہ سمجھ لے، اس لئے کہ واجب اور فرض میں اصطلاحی فرق ہے ورنہ بلحاظ عمل کے فرض و واجب ایک ہی ہیں۔