English
Abdullah ibn Abi Bakr (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard Ubayy ibn Ka'b say: 'We used to finish the night prayers in Ramadan and hurry the servants to bring food, fearing we would miss Suhoor.' In another narration: 'Fearing the dawn.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٧٠٦ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ أُبَيًّا يَقُوْلُ: كُنَّا نَنْصَرِفُ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْقِيَامِ فَنَسْتَعْجِلُ الْخَدَمَ بِالطَّعَامِ مَخَافَةَ فَوْتِ السُّحُوْرِ. وَفِي أُخْرَى مَخَافَةَ الْفَجْرِ. رَوَاهُ مَالِكُ.
اردو
عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہے کہ ہم تراویح اوّل شب میں شروع کر کے اتنی دیر تک
پڑھتے رہتے تھے کہ جب تراویح پڑھ کر واپس ہوتے تو ہم کو سحری کے فوت ہوجانے کا خوف ہوتا
تھا اس لئے ہم گھر آکر خادموں سے سحری کا کھانا جلد دینے کا تقاضہ کرتے تھے، تاکہ سحری کا وقت
نہ گزر جائے۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔
16-1964- امام مالک رحمة اللہ علیہ کی دوسری روایت میں ہے: ہم سحری کا کھانا جلد دینے
کا تقاضہ کرتے تھے؛ تاکہ فجر کا وقت نہ گزر جائے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Muwatta Malik 253 (unverified) 60% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1303 (unverified) 40% confidence
Mishkat (candidate) 1303
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
فصل سوم میں یہ مذکور ہے کہ (20) رکعت تراویح کا ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے اس لئے کہ خلفائے راشدین نے (20) رکعت تراویح پر پابندی فرمائی ہے اور اس کو ہمیشہ ادا کیا ہے اور اس سے پہلے حدیث گزر چکی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع بھی لازمی ہے اور خلفاء راشدین کی سنت کا تارک گنہگار ہوگا۔ چونکہ خلفائے راشدین سے (20) رکعت تراویح ثابت ہے اس لئے (20) رکعت تراویح سنت مؤکدہ ہے اور اسی پر ہر زمانہ میں عمل درآمد رہا ہے۔