Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1786

Chapter on Friday (Jumu’ah)

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Friday (Jumu’ah)

Zujajat al-Masabih 1786Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "I went to Mount Tur and met Ka’b al-Ahbar. We sat together, and he told me about the Torah, while I told him about the Messenger of Allah (ﷺ). Among what I told him was: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best day on which the sun rises is Friday. On it, Adam was created; on it, he was forgiven; on it, he died; and on it, the Hour will occur. No creature but that it is in fear of Friday from dawn until sunrise, except for jinn and humans. On it, there is an hour when no Muslim servant asks Allah for something while praying except that He grants it.” Ka’b said: ‘That is one day every year.’ I said: ‘No, it is every Friday.’ Ka’b read the Torah and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) spoke the truth.’" Abu Hurairah said: ‘I met Abdullah ibn Salam and told him about my meeting with Ka’b and what I had said about Friday. I told him: Ka’b said it is one day every year. Abdullah ibn Salam said: Ka’b lied. I said: Then Ka’b read the Torah and said: It is every Friday. Abdullah ibn Salam said: Ka’b spoke the truth. Then he said: I know which hour it is. I said: Tell me, and do not withhold it. He said: It is the last hour of Friday. I said: How can it be the last hour when the Prophet (ﷺ) said it is when a Muslim is praying? He said: Did the Prophet (ﷺ) not say: “Whoever sits waiting for the prayer is in prayer until he prays”? I said: Yes. He said: That is it.’"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٨٦ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى الطُّوْرِ، فَلَقِيْتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ، فَكَانَ فِيْمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيْهِ تِيْبَ عَلَيْهِ، وَفِيْهِ مَاتَ، وَفِيْهِ تَقُوْمُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيْحَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِيْنَ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنُّ وَالْإِنْسُ، وَفِيْهِ سَاعَةً لَا يُصَادِقُهَا عَبْدُ مُسْلِمُ وَهُوَ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ». قَالَ كَعْبُ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمُ. فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمْعَةٍ. فَقَرَأَ كَعْبُ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللهِ ﷺ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقِيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِيْ مَعَ كَعْبِ الْأَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمُ. قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ، فَقُلْتُ لَهُ: ثُمَّ قَرَأَ كَعْبُ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ. ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِهَا، وَلَا تَضَنَّ عَلَيَّ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه): فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَكُوْنُ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ : لَا يُصَادِقُهَا عَبْدُ مُسْلِمٌ وَهُمْ يُصَلِّي فِيْهَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُمْ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّي»؟ قَالَ أَبُوْ هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: بَلَى قَالَ: فَهُوْ ذَلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَى أَحْمَدُ إِلَى قَوْلِهِ: صَدَقَ كَعْبٌ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2065
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے طور جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں کعب احبار سے ملاقات ہوئی، میں ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا (چونکہ) وہ اس زمانہ میں یہودی تھے) اپنی توراۃ کے کچھ مضامین سنانے لگے، میں بھی ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احادیث سنا رہا تھا منجملہ ان احادیث کے جو میں ان کو سنا رہا تھا، ایک حدیث یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، یوں تو ہر دن آفتاب نکلتا ہے اور جمعہ کے دن بھی آفتاب نکلتا ہے، مگر جمعہ کے دن آفتاب نکلنے سے جمعہ کا جو ظہور ہوتا ہے اس دن جو خیر و برکات ظاہر ہوتے ہیں، ایسے کسی دن میں ظاہر نہیں ہوتے، اس لئے جمعہ کا دن سب دنوں میں افضل ہے۔ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام اسی دن پیدا کئے گئے اور اسی دن (جنت) سے زمین پر اتارے گئے اور اسی دن ان کا قصور معاف ہوا۔ اور اسی دن انہوں نے وفات پائی۔ اسی دن قیامت قائم ہوگی (اور پہلی بار صور پھونکا جائے گا۔ جس سے سارا عالم فنا ہو جائے گا) جن و انس کے سوا ہر جاندار کو اس کی خبر ہے کہ جب کبھی قیامت آئے گی تو جمعہ کے دن صبح صادق سے طلوع آفتاب کے درمیان ہی آئے گی) اس لئے جن و انس کے سوا کوئی جانور ایسا نہیں جو جمعہ کے دن صبح صادق سے طلوع آفتاب تک قیامت قائم ہونے کے خوف سے صور پھونکے جانے کی آواز کی طرف کان نہ لگائے رکھتا ہو، جمعہ کے دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان نماز پڑھ رہا ہو اور اتفاق سے وہ ساعت نماز میں آ گئی (اور اس کے دل میں دعا کا مضمون حاضر تھا) تو اللہ تعالیٰ اس گھڑی کی برکت سے اس کی دعا قبول فرما کر جو بھلائی وہ مانگ رہا تھا، اس کو عطا فرماتے ہیں (یہ سن کر) کعب احبار نے فرمایا کہ (ہمارے پاس بھی اس کا داخلہ ہے) یہ ساعت جس میں دعا قبول ہوتی ہے، سال میں ایک مرتبہ آتی ہے، میں نے ان سے کہا نہیں، یہ مقبول ساعت تو ہر جمعہ میں آتی ہے (یہ سن کر) کعب نے تورات کی تلاوت کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا (مجھے خیال نہیں رہا تھا) تورات میں بھی ویسا ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر جمعہ کو وہ مقبول ساعت آتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات عبداللہ بن سلّام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میری اور کعب احبار کی جمعہ کی مقبول ساعت کے متعلق جو گفتگو ہوئی تھی اس کو میں عبداللہ بن سلّام کے سامنے دہرایا کہ کعب کہہ رہے تھے کہ یہ مقبول ساعت ہر سال ایک دن میں آتی ہے (یہ سن کر عبداللہ بن سلّام کہے: کعب کو یاد نہ رہا ہوگا، وہ غلط کہے، پھر میں عبداللہ بن سلّام سے کہا کہ کعب توراۃ پڑھنے لگے ان کو اپنی غلطی کا علم ہوگیا اس لئے پھر کعب نے کہا: سچ ہے وہ مقبول ساعت ہر جمعہ میں آتی ہے عبداللہ بن سلّام یہ سن کر کہے: اب کعب نے سچ کہا، پھر عبداللہ بن سلّام نے کہا کہ میں اس ساعت کو جانتا ہوں کہ وہ جمعہ کے دن کس وقت آتی ہے، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن سلّام سے کہا کہ مجھے وہ ساعت بتادیجئے اور مجھ سے اس ساعت کو نہ چھپائیے تو عبداللہ بن سلّام نے فرمایا کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے۔ ابوہریرہ کہتے ہیں کہا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت کیسے ہوسکتی ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس ساعت کو پالے، حالانکہ (عصر کے بعد) جمعہ کی آخری ساعت میں کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی ہے یہ سن کر عبداللہ بن سلام نے فرمایا کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنے کہ حضور فرمائے ہیں کہ جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو تو سمجھا جائے گا کہ وہ نماز ہی میں ہے، میں نے کہا ہاں بیشک میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی فرمائے ہیں! تو عبداللہ بن سلام نے کہا: بس اب سمجھ لو کہ نماز پڑھتے ہوئے وہ ساعت پانے سے مطلب یہ ہے کہ جو بندہ مومن نماز کے انتظار میں ہو تو وہ نماز میں ہی سمجھا جاتا ہے) ایسے نماز کے انتظار کی حالت میں اس کو وہ ساعت ملی تو سمجھا جائے گا کہ نماز میں ہی اس کو وہ ساعت ملی۔ اس وقت وہ جو دعا کرے قبول ہوتی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت امام مالک، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور امام احمد نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1046 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 491 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.