English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) was asked: ‘Why is it called Friday?’ He replied: ‘Because on it, the clay of your father Adam was shaped, and on it, the Trumpet will be blown, the Resurrection will occur, and the Punishment will take place. In its last three hours, there is an hour when whoever asks Allah for something, He grants it.’"
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۷۸۸ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ : لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ فِيْهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ، [وَ] فِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ، وَفِيهَا الْبَطْشَةُ، وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةً مَنْ دَعَا اللهَ فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2067
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ حضور جمعہ کے دن کو جمعہ کیوں کہتے ہیں؟ کون چیزیں اس میں جمع کی گئی
ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کو جمعہ کہتے ہیں: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے:
سنو! (اس دن میں بہت سے اہم اور عظیم الشان امور جمع ہوتے ہیں) جمعہ میں ایک بات تو یہ ہوئی
کہ آدم علیہ السلام کو بنانے کے لئے مٹی کو خمیر کیا گیا، جمعہ کے دن ہی پہلا صور پھونکا جائے گا (جس
سے تمام عالم فنا ہو جائے گا) اور جمعہ کے دن ہی (دوسرا صور پھونکا جائے گا جس سے) تمام عالم پھر
زندہ ہو جائے گا۔ جمعہ کے دن ہی میدان قیامت (میں وہ ہنگامہ) قائم ہوگا (جس کی دہشت سے
بچے بوڑھے ہو جائیں گے) جمعہ کے دن آخری حصہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس گھڑی میں جو
کوئی دعاء کرے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن عصر
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1364 (unverified) 50% confidence
- Candidate: Musnad Ahmad 8102 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 1364
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
سے مغرب تک کے درمیان مقبول ساعت آتی ہے اس لئے عصر سے مغرب تک کے وقت کو اور دنیوی امور میں ضائع نہ کریں بلکہ عبادات اور دعاء میں مشغول رہیں)۔ (اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)