English
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: "When the sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), it was announced, 'The prayer is to be held in congregation.'" [Narrated by Bukhari]
Abu Dawud narrated something similar from Aisha (may Allah be pleased with her).
العربية
Typed, pending editorial approval
١٩٢٠ - عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو (رضي الله عنه) قَالَ: لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ نُوْدِيَ: «إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ عَنْ عَائِشَةَ مَا نَحْوَهُ.
اردو
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں (ایک بار) جب سورج گہن ہوا تو (نماز کے لئے) اذان اور
اقامت نہیں دی گئی (بلکہ) منادی کو حکم دیا گیا کہ وہ ”اَلصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ“ (نماز جماعت سے ہو رہی
ہے) کہہ کر لوگوں کو (سورج گہن کی) نماز کے لئے بلائے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح اس کی روایت ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا سے کی ہے۔
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Almighty: "And We send not the signs except as a warning." (Qur’an 17:59)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1045 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام فرائض، سنن اور نوافل میں کوئی نماز ایسی نہیں ہے کہ جس کی ہر رکعت میں متعدد رکوع ہوں، نماز کسوف بھی بجملہ ان نمازوں کے ہے اس لئے اس کی ہر رکعت میں متعدد رکوع کا ہونا صحیح نہیں ہے، مثل اور نمازوں کے نماز کسوف میں بھی ہر رکعت میں ایک ہی رکوع ہونا چاہئے، اسی واسطے: