Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1923

(اس باب میں سورج گہن کی نماز اور چاند گہن کی نماز کا بیان ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(اس باب میں سورج گہن کی نماز اور چاند گہن کی نماز کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 1923Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2239Noor 2240
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورج گہن ہوا (کیا کہوں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس قدر خوف طاری تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ کسوف عذاب الٰہی کا پیش خیمہ ہے، یا اس کسوف کے ساتھ ہی قیامت قائم ہونے والی ہے) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے کھڑے ہوئے اسی خوف کی حالت میں مسجد کی طرف چلے (اس وقت حضور پر ایسا خوف طاری تھا کہ چادر مبارک سنبھالنے کی بھی سدھ نہ تھی) چادر مبارک کو گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف چلے اور آپ کے ساتھ سب صحابہ حضور کے خوف کی حالت دیکھ کر خود بھی خوف زدہ ہو کر مسجد میں پہنچ اور ابن حبان کی ایک روایت میں اور حاکم ایک کی روایت میں ہے کہ کسوف کی نماز حضور دو رکعت پڑھائے۔ (اور ہر رکعت کو ایک رکوع اور دو سجدوں سے ایسے ہی پڑھائے) جیسے تم دوسرے نمازوں کی ہر رکعت کو ایک رکوع اور دو سجدوں سے پڑھتے ہو اور حاکم نے کہا ہے کہ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اگرچہ کہ انہوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کی روایت نہیں کی ہے، اور امام ذہبی نے بھی اس کا اعتراف اور اقرار کیا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1040 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

گئے قربان نبی امّی پر کہ کسوف شمس سے خوف زدہ ہو کر ہم کو سینکڑوں برس پہلے وہ بات بتلائے جو آج سائنس دان بڑی تحقیق کے بعد کہتے ہیں کہ کسوف شمس کے وقت کشش سیارگان متاثر ہونے سے نظام شمسی کے درہم برہم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے کسوف شمس کے وقت دنیا تباہی کے کنارے آ جاتی ہے نظام شمسی میں اگر ایسے ہی خلل پڑ جائے تو سارے کُرّے آپس میں ٹکرائیں گے اور دنیا ختم ہو جائے گی، پھر جب کسوف شمس کا انجلاء ہونے لگتا ہے تو کشش سیارگان بحال ہو جاتی ہے اور نظام شمسی اپنے حال پر قائم ہو جاتا ہے اور دنیا تباہی سے بچ جاتی ہے اسی وجہ سے کسوف شمس کے وقت حضور بے حد خوف زدہ تھے) راوی کہتے ہیں کہ اسی خوف کی حالت میں نماز کسوف (ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ) ایسے ہی ادا فرمائے جیسے تم اور نمازوں کو (ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدوں سے) ادا کرتے ہو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے، امام بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔

Note 2

(اس لئے بخاری اور مسلم کی حدیثوں کی طرح یہ حدیث بھی صحیح ہے)