العربية
Typed, pending editorial approval
۱۹۳۰ - وَعَنِ النُّعْمَانِ بْن بَشِيْرِ (رضي الله عنه) قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا حَتَّى الْجَلَتِ الشَّمْسُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1193 (unverified) 70% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے کئی طریقوں سے نماز کسوف کی روایت آئی ہے ابو داؤد کے دوسرے طریق میں مروی ہے کہ حضور دو رکعت نماز پڑھ کر کسوف ختم ہونے کے بعد دعا وغیرہ تھے، اس روایت میں صرف دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے اور حاکم کی روایت میں بھی نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور کسوف کی نماز دو رکعت پڑھائے، اور حاکم کی اس روایت میں بھی نماز کسوف صرف دو رکعت پڑھانے کا ذکر ہے دو رکعت نماز کسوف پڑھانے کی روایت کر کے حاکم کہتے ہیں کہ صرف دو رکعت پڑھانے کی روایت صحیح ہے اور بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے، گو بخاری اور مسلم اس کو اپنی کتابوں میں روایت نہیں کئے ہیں، نسائی کی روایت میں بھی نماز کسوف صرف دو رکعت ہونے کو اس طرح بیان کئے ہیں کہ فجر کی نماز کی طرح کسوف شمس کی نماز حضور دو رکعت ہی پڑھے ہیں، زیلعی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلوٰۃ کسوف صرف دو رکعت ہی پڑھے ہیں، یہ سب بذل المجہود سے لیا گیا ہے، اس کے سوا دوسری روایتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلوٰۃ کسوف دو رکعت ہی پڑھے ہیں، اسی لئے ردالمحتار میں ظاہر الروایہ سے نقل کئے ہیں کہ صلاۃ کسوف کے دو رکعت ہی ہیں اور ظاہر الروایہ کے سوا دوسرے حنفی کتابوں میں مذکور ہے کہ دو دو رکعت صلوٰۃ کسوف کے پڑھ کر چار رکعت یا اس سے زائد پڑھ سکتے ہیں، اس کی تائید صدر کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس کا ترجمہ ابھی کیا گیا ہے، یعنی حضور صلوٰۃ کسوف کو دو دو رکعت پڑھتے جاتے تھے اور کسوف کے ختم ہونے کو دریافت فرماتے جاتے تھے، اس روایت سے معلوم ہوا کہ صلوٰۃ کسوف دو رکعت سے زیادہ پڑھنا بھی جائز ہے۔12