Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1947

Chapter on The Prayer for Rain

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Prayer for Rain

Zujajat al-Masabih 1947Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed for rain and turned his cloak, hoping that the drought would turn into abundance." 1 [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak] Al-Hakim said: "This is a hadith with an authentic chain, but Bukhari and Muslim did not include it."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٩٤٧ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ لِيَتَحَوَّلَ1 الْقَحَطُ. رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ». وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثُ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2271
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک وقت بارش آنے کے لئے دعائے استسقاء فرمائے تھے) اور دعائے استسقاء کے وقت اپنی چادر مبارک اس طرح الٹے تھے (کہ اپنے دونوں ہاتھ پیٹھ کی طرف لے جا کر چادر مبارک جو پشت پر لگّی ہوئی تھی بائیں ہاتھ سے چادر کے نیچے کے سیدھے کنارے کو پکڑے اور سیدھے ہاتھ سے چادر کے نیچے کے بائیں کنارے کو پکڑے اور چادر کے اوپر کے کناروں کو پیٹھ کی طرف سے ہی نیچے کر کے نیچے کے کناروں کو اوپر لائے جس سے چادر کا ہر جز ء الٹ گیا، اندر کا حصہ باہر آ گیا اور باہر کا حصہ اندر چلا گیا، سیدھے طرف کا حصہ بائیں طرف آ گیا اور بائیں طرف کا حصہ سیدھے طرف آ گیا، اور نچلا حصہ اوپر آ گیا اور اوپر کا حصہ نیچے آ گیا، یہ سارا عمل ایک ہی حرکت میں ادا کیا گیا ،اس سے عملی طور پر یہ بتانا مقصود تھا کہ الٰہی ہماری حالت میں قحط کی وجہ سے بہت بڑا انقلاب آ گیا ہے جیسے میں چادر کے ہر جز ء کو الٹایا ہوں ویسے ہی ہماری ہر حالت میں انقلاب پیدا کر کے قحط سالی دور فرمائیے، خوشحالی پیدا کر دیجئے)
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Hoping that the drought would turn.

(1) The statement: "Hoping that the drought would turn." In Al-Hidayah, it is said: "This was an act of optimism." Ibn al-Humam said: "This acknowledges the act but denies its establishment as a Sunnah, as it was done for a reason unrelated to worship. Allah knows best." In Al-Mirqat, it is said: "The turning of the cloak was an act of optimism, as explicitly mentioned in Al-Mustadrak from the hadith of Jabir, which Al-Hakim declared authentic. He said, 'He turned his cloak so that the drought would turn into abundance.' In Tawalat al-Tabarani, it is narrated from Anas: 'He turned his cloak so that the drought would turn into fertility.'"

Note 1

قوله

(۱) قوله: ليتحول وقال في «الهداية»: وما رواه كان تفاؤلا . قال ابن الهمام: اعتراف برايته ومنع استنانه؛ لأنه فعل لأمر لا يرجع إلى معنى العبادة، والله أعلم. ثم قال: واعلم أن كون التحويل كان تفاؤلا، جاء مصرحا به في المستدرك» من حديث جابر، وصححه، قال: وحوّل رداءه؛ لتحول القحط. وفي طوالات الطبراني من حديث أنس: وقلب رداءه؛ لكي ينقلب القحط إلى الخصب. قاله في «المرقاة».

Note 1

اس حدیث میں چادر الٹنے کی وجہ یہ بتلائی گئی ہے کہ جس طرح چادر کا ہر جز ء الٹا گیا ہے اسی طرح موجودہ حالت میں انقلاب ہو کر بجائے قحط کے خوشحالی آ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چادر الٹنا دعائے استسقاء کے وقت سنت اور عبادت نہیں ہے بلکہ یہ عرض کرنا ہے کہ الٰہی ہماری حالت میں انقلاب پیدا کر کے خوشحالی لائیے، اس سے محض فال نیک لینا مقصود تھا نہ کہ حضور کا چادر الٹنے کو سنت اور عبادت بنانے کا ارادہ تھا، اس لئے ہر حدیث میں دعاء استسقاء کے وقت چادر الٹنے کا ذکر نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دعائے استسقاء کے وقت چادر الٹنے کو سنت ہونا نہیں فرمائے ہیں۔ اس حدیث کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اور صحیح ہے، اگرچیکہ انہوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس حدیث کی روایت نہیں کی ہے۔