Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1962

Chapter on Winds

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Winds

Zujajat al-Masabih 1962Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When a strong wind blew, the Prophet (ﷺ) would say: 'O Allah, I ask You for the good of this wind, the good of what it contains, and the good of what it is sent with. And I seek refuge in You from the evil of this wind, the evil of what it contains, and the evil of what it is sent with.' When the sky became cloudy, his color would change, and he would go in and out, and move back and forth. When it rained, his anxiety would be relieved. Aisha (may Allah be pleased with her) said: 'I asked him about it, and he said: 'O Aisha, perhaps it is as the people of 'Ad said: "When they saw it as a cloud approaching their valleys, they said, 'This is a cloud bringing us rain!'" (Qur'an 46:24). In another narration, he would say when he saw rain: 'Mercy.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٩٦٢ - وَعَنْهَا (رضي الله عنه) قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيْهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيْهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «لَعَلَّهُ - يَا عَائِشَةُ - كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} (الأحقاف: (٢٤) . وَفِي رِوَايَةٍ: وَيَقُوْلُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ: رَحْمَةُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
4/2289-2290۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ،آپ فرماتی ہیں کہ جب تیز آندھی چلتی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر خوف طاری ہو جاتا تھا رہ رہ کر امت کا خیال آتا تھا کہ کہیں قوم عاد کی طرح ان پر یہ آندھی عذاب کا ذریعہ نہ بنے، اس وقت (بہت پریشانی کے ساتھ نہایت عاجزی سے امت کا خیال کر کے) یہ دعا کرتے تھے: الٰہی! (ہم کو مت دیکھئے آپ اپنی رحمت پر نظر کر کے اس آندھی کو ذریعہ خیر بنائیے (اور ہر چیز میں خیر و شر ادا کرتے ہیں) ہم کو اس آندھی میں جو خیر ہے وہ پہنچائیے اگر آپ اس آندھی کو خیر کا ذریعہ بنا کر بھیجے ہیں تو وہ خیر ہم کو پہنچائیے، الٰہی میں آپ سے اس آندھی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں، اس آندھی کے شر سے ہم کو بچائیے اور اس آندھی میں جو شر ہے اس سے بھی ہم کو بچائیے (اگر یہ آندھی شر کا ذریعہ بنا کر بھیجی گئی ہے تو وہ شر ہم کو نہ پہنچے اور اس شر سے ہم کو بچائیے۔ یہ بھی ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ جب ابر چھا جاتا تھا اور بارش شروع نہ ہوتی تھی تو خوف سے حضور کا چہرہ اتر جاتا تھا (خوف کی وجہ سے آپ کو قرار نہ ہوتا تھا، کبھی گھر میں آپ تشریف لے جاتے اور کبھی باہر آتے اور کبھی ادھر آتے اور کبھی اُدھر جاتے اور جب بارش ہونے لگتی تو وہ خوف آپ سے دور ہو جاتا تھا اور آپ سمجھتے تھے کہ یہ ابر اب ذریعہ عذاب نہیں ہے، حضور کا ابر کو دیکھ کر پریشان ہونا اور بارش ہونے سے پریشانی کا دور ہونا، ام المؤمنین اس کا سبب حضور سے دریافت کئے، ام المؤمنین سے یہ سن کر حضرت فرمائے سُنو عائشہ! ابر جب امڈا ہوا چلا آتا ہے تو خوف ہوتا ہے کہ کہیں یہ ابر ویسا تو نہیں ہے جیسا قوم عاد پر آیا تھا، قوم عاد اس ابر کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی کہ یہ ابر بارش برسائے گا خوشحالی ہوگی، افسوس ایسا نہ ہوا قوم عاد پر یہ ابر برسا نہیں، ان پر عذاب کا ذریعہ بنا، اس ابر میں سے تیز ہوائیں نکلیں جو ان کو کئی کئی گز اٹھا کر پٹک رہی تھیں، اس طرح وہ ابر ان پر عذاب کا ذریعہ ہوا سب ہلاک ہو گئے، اور ان کے مکان اجڑے پڑے تھے، عائشہ! یہ سارا منظر ابر کو دیکھتے ہی میرے سامنے پیش ہو جاتا ہے، جب بارش ہو جاتی ہے تو عذاب آنے کا خوف نہیں رہتا ہے اور عذاب کا اندیشہ مجھ سے زائل ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 899b (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.