اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2385
حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ خباب رضی اللہ
تعالیٰ عنہ (جو مشہور صحابی ہیں وہ بیمار تھے، میں اُن کی عیادت کے لئے ان) کے پاس گیا (کیا دیکھتا
ہوں کہ حضرت خباب سخت بیمار ہیں، ان کو علاج کے طور پر ایک دو جگہ نہیں بلکہ) سات جگہ داغ دیا
گیا ہے (بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ داغ دے کر علاج نہ کیا جائے، وہ عام طور پر ممانعت
نہیں ہے لوگوں کی عادت تھی کہ معمولی ضرورت پر بھی داغ دیا کرتے تھے، اس سے منع کیا گیا، اہم
ضرورت ہو تو داغ دینا ممنوع نہیں ہے حضرت خباب جیسے صحابی ممنوع چیز ہرگز استعمال نہ کرتے،
ایسی ہی اہم ضرورت تھی اسی وجہ سے حضرت خباب داغ دینے سے اپنا علاج کئے تھے، اہم ضرورت کا
اس سے اندازہ کرو کہ وہ کیسی سخت بیماری ہوگی جس کی برداشت نہ کر کے) حضرت خباب فرما رہے
ہیں: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موت کی آرزو کرنے سے منع نہ فرماتے تو میں (اس سخت
مرض کی برداشت نہ کر کے) موت کی آرزو کرتا (مگر میں حضور کے ارشاد کی تعمیل کر کے کیسا ہی مرض
ہو، اس میں موت کی آرزو نہیں کرتا ہوں، یہ بیماری کیا چیز ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے کسی ایسے صحابی کو نہیں جانتا جس نے میرے برابر بلائیں اور مصیبتیں برداشت کی ہوں، ان
مصیبتوں کے وقت بھی بے صبری کا اظہار نہیں کیا ہوں اب اس بیماری میں بے صبری کر کے حضور
کے ارشاد کے خلاف کر کے موت کی آرزو نہیں کرتا، دیکھو اس وقت) میری یہ حالت تھی کہ ایک درہم
بھی میرے پاس نہیں تھا (مگر کبھی میں نے بے صبری کا اظہار نہیں کیا) اور اب میرے گھر کے ایک
کونے میں 40 ہزار درہم پڑے ہوئے ہیں (حارثہ) کہتے ہیں کہ پھر حضرت خباب کا کفن لایا گیا
(جو بہت قیمتی تھا) جب (حضرت خباب) اس (کفن) کو دیکھے تو رونے لگے (روتے ہوئے)
فرمائے (ایک کفن تو یہ ہے اور ایک کفن تو وہ تھا جو) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو (دیا گیا، گنجائش نہ
ہونے سے تین کپڑوں کی بجائے) ایک دھاری دار چادر ہی میں آپ کو کفنایا گیا (کیا کہوں وہ بھی
اتنا چھوٹا کفن تھا کہ) سر کو ڈھانکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں کو ڈھانکتے تو سر کھل جاتا
تھا (مجبور ہو کر) اسی کفن سے سر کو ڈھانکے پاؤں جو کھلے ہوئے تھے ان کو اذخر نامی خوشبودار گھاس
سے ڈھانکے (اور اسی حالت میں حضرت حمزہ دفن کئے گئے۔ صاحبو! آپ نے دیکھا اس وقت کی
زندگی کیسی تکلیف کی زندگی تھی، باوجود اس تکلیف کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو حکم تھا کہ
تکلیف کی وجہ سے موت کی آرزو نہ کریں، اس لئے باوجود تکلیف کے کوئی صحابی نہ موت کی آرزو کئے
نہ موت آنے کی دعا کئے۔ مسلمانو! تم بھی کسی ہی قسم پر پریشانی آئے حضور کے حکم کی تعمیل کر کے کبھی
موت کی آرزو نہ کرنا اور نہ موت آنے کی دعا کرنا، صبر کئے ہوئے صبر کا ثواب حاصل کرتے رہو۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 971 (unverified) 72% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے، اور ترمذی نے بھی اسی کے قریب قریب روایت کی ہے۔