English
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) took hold of his shoulders and said, "Be in this world as if you are a stranger or a traveler." Ibn Umar (may Allah be pleased with him) used to say, "When evening comes, do not wait for the morning, and when morning comes, do not wait for the evening. Take from your health for your sickness and from your life for your death"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٠٥٨ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَمَنْكَيْ، فَقَالَ: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ». وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُوْلُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرُ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرُ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2393
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (خاص توجہ سننے کے لئے) میرے دونوں مونڈھے پکڑ کر ارشاد فرمائے ابن عمر سنو!
(دنیا کو اپنا گھر نہ سمجھنا) تم دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر (منزل میں) رہتا ہے (کسی چیز سے دل نہ
لگاؤ اس لئے کہ ایک دن اس کو چھوڑنا ہے، یہاں کی لذتوں سے نفع لینے کی عادت نہ ڈالو، لوگوں سے
گہرا تعلق (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) پیدا نہ کرو، ایک دن ان کو چھوڑنا ہے، ہاں خدا و
رسول کے حکم کے موافق ان کے حقوق ادا کرتے رہو، ابن عمر! تم یہ نہ سمجھنا کہ میں یہاں ہمیشہ رہنے
کے واسطے آیا ہوں، تم ایسے رہو جیسے مسافر کہ وہ کسی سے گہرے تعلق پیدا نہیں کرتا، مسافر کے جیسے
مشاغل ہوتے ہیں ایسے مشاغل رکھو، ہمیشہ رہنے والے کے جیسے مشاغل نہ پیدا کرو، تم مسافر ہو،
آخرت تمہارا اصلی وطن ہے، اصلی وطن میں رہنے کے لئے یہاں سے سامان تیار کر کے چلو، سنو ابن
عمر! مسافر منزل میں ایک دو روز تو بھی قیام کرتا ہے لیکن تم کو یہاں ایک دو روز بھی قیام کرنے کی
امید نہیں) بلکہ تم اپنے کو سمجھو کہ میں مسافر ہوں راستہ چل رہا ہوں (مجھے یہاں دنیا میں ایک دن بھی
رہنے کی امید نہیں ہے، کیا معلوم کب وقت آتا ہے اور کب چلنا پڑتا ہے اگر شام ہو تو صبح کا انتظار
مت کرو (کیا معلوم تم صبح تک زندہ رہتے بھی ہو یا نہیں) اور ایسا ہی جب (جیسا کہ مرقات میں
مذکور ہے۔12) صبح ہو تو شام کا انتظار مت کرو (کیا معلوم کہ تم شام تک زندہ رہتے ہو یا نہیں، ابن
عمر! تم موت کی تیاری میں رہو) جو وقت ملے اس کو غنیمت سمجھو، صحت کے زمانہ میں جہاں تک
ہوسکے اعمال نیک کرتے رہو) جب بیمار ہو جاؤ گے تو تم اعمال نیک کرنا چاہو گے نہیں کر سکو گے) ایسا
ہی زندگی کو غنیمت جانو، جہاں تک ہو سکے اعمال نیک کرتے رہو (موت کے بعد کا زمانہ جزاء ملنے کا
زمانہ ہے، عمل کرنے کا زمانہ نہیں ہے، ہزار تم عمل کرنا چاہو گے مگر عمل نہیں کر سکو گے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6416 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1604 (unverified) 95% confidence
Mishkat (candidate) 1604
Confidence and text similarity are not editorial verification.