English
Abu Sa'id and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Prompt your dying ones to say: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (There is no god but Allah)." 1
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٠٦٤ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنهما) قَالَا : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: «لَقَنُوا1 مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2399
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات سے روایت ہے، یہ دونوں
حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس شخص کی موت قریب
آگئی ہے (اور سکرات شروع ہوگئی ہو تو) اس کے سامنے آواز سے کلمۂ توحید ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ
رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ (اس طرح) پڑھے (کہ مرنے والا اس کو سنے اور کلمۂ توحید اسے یاد آجائے اور وہ
زبان یا دل سے کلمۂ توحید پڑھے اور کلمۂ توحید پر ہی اس کا خاتمہ ہوجائے۔)
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Qur’an-related source paragraphs
Allah the Almighty says: "If you could but see when the wrongdoers are in the overwhelming pangs of death while the angels extend their hands, [saying], 'Discharge your souls! Today you will be awarded the punishment of [extreme] humiliation for what you used to say against Allah other than the truth and [that] you were, toward His verses, being arrogant.'" (Qur'an 6:93)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 916a (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 917 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1616 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 1616
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "Prompt your dying ones to say: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ..." It is said in Ad-Durr al-Mukhtar: "It is recommended to prompt them, and some say it is obligatory, with the testimony of faith (Shahadah), because the first part is not accepted without the second. This should be done before the death rattle, without being commanded, so as not to cause distress. If they say it once, it suffices, and it should not be repeated unless they speak, so that their last words are: 'La ilaha illallah.' It is also recommended to recite Surah Ya-Sin and Surah Ar-Ra'd. Prompting should not be done after shrouding, but if done, it is not prohibited. In Al-Jawharah, it is mentioned that this is a practice of the Sunnis, and it suffices to say: 'O so-and-so, son of so-and-so, remember what you were upon, and say: I am pleased with Allah as my Lord, with Islam as my religion, and with Muhammad (ﷺ) as my Prophet.' It was said: 'O Messenger of Allah, what if his name is not known?' He said: 'Refer him to Adam and Eve.' Those who are not questioned (e.g., martyrs) should not be prompted." In Radd al-Muhtar, it is elaborated that the majority hold the view that the dead can hear, and it is mentioned in Sharh al-Munyah that the majority interpret the hadith metaphorically. However, it is not prohibited to prompt after burial because there is no harm in it; rather, it is beneficial, as the deceased finds comfort in the remembrance, as mentioned in various narrations. It is also mentioned that eight categories of people are not questioned: the martyr, the one guarding the frontier, the one who dies of plague, the one who dies during a plague while being patient and hopeful, the truthful believer, children, the one who dies on Friday or its night, and the one who regularly recites Surah Al-Mulk. Some also include those who recite Surah As-Sajdah and Surah Al-Ikhlas during their illness. The commentator also added that the Prophets (peace be upon them) are included, as they are more deserving than the truthful believers.
Note 1
(۱) قوله : لقنوا موتاكم إلخ : قال في الدر المختار»: ويلقن ندبًا، وقيل: وجوبا بذكر الشهادتين؛ لأن الأولى لا تقبل بدون الثانية عنده قبل الغرغرة من غير أمره بها؛ لئلا يضجر، وإذا قالها مرَّةً كفاه، ولا يكرر عليه ما لم يتكلم؛ ليكون آخر كلامه: «لا إله إلا الله». ويندب قراءة «يس» و «الرعد». ولا يُلقن بعد تلحيده، وإن فعل لا ينهى عنه. وفي «الجوهرة»: أنه مشروع عند أهل السنة، ويكفي قوله: يا فلان يا ابن فلان اذكر ما كنت عليه، وقل: رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد ﷺ نبيًّا». قيل: يا رسول الله ! فإن لم يعرف اسمه قال: ينسب إلى آدم وحواء، ومن لا يُسأل ينبغي أن لا يلقن انتهى. وقال في رد المحتار: وقد أطال في «الفتح» في تأييد حمل موتاكم في الحديث على حقيقته مع التوفيق بين الأدلة، على أن الميت يسمع أو لا، لكن قال في شرح المنية»: إن الجمهور على أن المراد منه مجازه، ثم قال: وإنما لا ينهى عن التلقين بعد الدفن؛ لأنه لا ضرر فيه، بل فيه نفع؛ فإن الميت يستأنس بالذكر على ما ورد في الآثار إلخ. ثم ذكر أن من لا يُسأل ثمانية: الشهيد والمرابط والمطعون والميت زمن الطاعون بغيره إذا كان صابرا محتسبا والصديق والأطفال والميت يوم الجمعة أو ليلتها والقارئ كل ليلة تبارك الملك، وبعضهم ضم إليها السجدة، والقارئ في مرض موته قل هو الله أحد. وأشار الشارح إلى أنه يزاد الأنبياء عليهم السلام؛ لأنهم أولى من الصديقين.
Note 1
ف: درمختار میں مذکور ہے کہ اس طرح تلقین کرنا مستحب ہے اور بعضوں نے اس کو واجب بھی قرار دیا ہے، مرنے والے کو کلمۂ توحید پڑھنے کا حکم نہ کرے کہ وہ سکرات کی تکلیف کی وجہ سے کہیں انکار نہ کردے، اگر مرنے والا ایک دفعہ کلمۂ توحید پڑھ لے تو دوبارہ اس کو کلمۂ توحید پڑھنے پر اصرار نہ کرے ہاں اگر وہ کلمۂ توحید پڑھنے کے بعد دنیا کی کوئی بات کیا ہو تو اس کے سامنے پھر کلمۂ توحید پڑھتے تاکہ وہ اس کو سن کر خود بھی کلمۂ توحید پڑھ لے اور اس کا آخر کلام ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ ہوا یہاں ہی دفن کے بعد بھی قبر کے پاس بیٹھ کر کلمۂ توحید ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“، آواز سے پڑھنا اہل السنّت والجماعت کے پاس جائز ہے جیسا کہ جوہرہ میں مذکور ہے، اس لئے کہ مردہ اس کو سنتا ہے اور اس کو فرشتوں کے سوال و جواب دینے میں سہولت ہوتی ہے، قبر کے پاس بیٹھ کر تلقین ان الفاظ سے کی جائے: ”يَا فُلَانُ يَا ابْنَ فُلَانٍ اُذْكُرْ مَا كُنْتَ عَلَيْهِ وَقُلْ رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا وَّ بِالْإِسْلَامِ دِينًا وَّبِسَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا“۔ یعنی مردہ کا نام اور اس کے باپ کا نام لے کر یہ کہے کہ دنیا میں جیسے تو توحید اور رسالت کا اقرار کیا کرتا تھا، اب بھی فرشتوں کے سامنے توحید و رسالت کا اقرار کر (ڈرنا نہیں، کچھ غمزدہ نہیں ہونا اسی طرح کہنا کہ میں دل سے راضی ہوں کہ اللہ میرا رب ہے اور دین میرا اسلام ہے اور رسول میرے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ تلقین کرنے والے سے جب مردہ یہ سنتا ہے اور یہی فرشتوں کو جواب دینا چاہتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اس کے بھائی نے اس کو سکھا دیا ہے، اب اس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، ایسا درمختار میں مذکور ہے اور امام سیوطی نے اپنے رسالہ میں ایسی ہی تصریح کی ہے اور جوہرہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ قبر میں جن سے سوال نہیں ہوتا ہے ان کو تلقین نہیں کرنا چاہئے اور شرح سنیہ میں لکھا ہے کہ جن سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ آٹھ لوگ ہیں: (1) ایک اللہ کی راہ میں کافروں کے مقابلہ میں لڑکر شہید ہونے والا۔ (2) دوسرا وہ شخص ہے جو سرحد اسلام پر سرحد کی حفاظت کر رہا ہے اور وہ اپنی موت سے مر گیا تو اس سے بھی قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے (3) تیسرا شخص جس سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ ہے جو طاعون میں مبتلا ہوکر مرے (4) چوتھا وہ شخص جس سے قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے وہ ہے جو طاعون کے زمانہ میں کسی دوسری بیماری میں مبتلا ہوکر مرے بشرطیکہ وہ اس پر صابر اور طالب ثواب رہا ہو (5) پانچویں وہ لوگ جن سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ صدیق ہیں جو انبیاء کرام کی امت میں سب سے زیادہ درجہ کے ہوتے ہیں، جن میں کمال باطنی بھی ہوتا ہے اور جن کو عرف میں اولیاء کہا جاتا ہے (6) چھٹے نابالغ بچے ہیں جن سے قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے (7) ساتویں وہ لوگ ہیں جو جمعہ کے دن یا شب جمعہ مرے ہوں، ان سے قبر میں سوال نہیں ہوتا (8) آٹھواں وہ شخص جس سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ ہے جو ہر رات میں سونے سے پہلے سورۃ ا لملک (سورۃ تبارک الذی) پڑھ کر سوتا ہو اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو اپنے مرض الموت میں سورہ ”قل ہو اللہ احد“ پڑھا ہو، اس سے بھی قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے۔ 12