Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2069

Chapter on What Should Be Said at the Time of Death

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on What Should Be Said at the Time of Death

Zujajat al-Masabih 2069Volume 1

English

Abdur Rahman ibn Ka'b reported from his father (may Allah be pleased with him) that when Ka'b was nearing death, Umm Bishr bint al-Bara' ibn Ma'rur came to him and said, "O Abu Abdur Rahman, if you meet so-and-so, convey my greetings to him." He replied, "May Allah forgive you, O Umm Bishr. We are too preoccupied for that." She said, "O Abu Abdur Rahman, have you not heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, 'The souls of the believers are in green birds hanging from the trees of Paradise'?" He said, "Yes." She said, "That is it."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٦٩ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُوْرَةٍ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنْ لَقِيْتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ، فَقَالَ: غَفَرَ اللهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ، نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طِيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: بَلَى قَالَتْ: فَهُوْ ذَاكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2404
عبدالرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ اپنے والد حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت کعب کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور آئیں اور کہیں کعب! (اب تم دوسرے عالم میں جا رہے ہو، تم جانتے ہو کہ میرے فرزند بشر کا انتقال (مرقات میں ابن ابی الدنیا کے حوالے سے ایسا لکھا ہے۔12) ہو چکا ہے، مجھے ان کی جدائی کا بڑا صدمہ ہے اپنی تسلی کے لئے کہتی ہوں کہ) اگر بشر سے تمہاری ملاقات ہو جائے تو ان کو میرا سلام پہونچائیے، کعب فرمائے ام بشر تم کیا کہہ رہی ہو، معلوم نہیں وہاں کیا پیش آتا ہے، ہم اپنی حالت میں پریشان رہیں گے (لوگوں کو سلام پہونچانے کا کیسا موقع آئے گا) ام بشر کہنے لگیں کعب تم یہ کیا کہہ رہے ہو (مسلمان کو وہاں پریشانی نہیں ہے بلکہ امن چین ہے) تم بھی سنے ہوں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا فرمائے ہیں؟ حضور کا ارشاد ہے: جس کا مفہوم ہے کہ (جیسے سمجھو! آج کل کی دنیا میں ہوائی جہاز میں لوگ بیٹھتے ہوئے سیر کرتے ہیں ایسے ہی) مسلمانوں کے روحیں سبز پرندوں کے خول میں بیٹھے ہوئے جنت کے درختوں میں میوہ خوری کرتے پھریں گے حضرت کعب فرمائے ہاں میں نے بھی حضور کو ایسا ہی فرماتے سنا ہے پھر ام بشر فرمائیں کہ آپ بھی جنت میں ایسے ہی سیر کرتے پھریں گے (وہاں پریشانی کا کیا ذکر ہے بلکہ وہاں آپس میں ملاقات ہوتی رہے گی، اس لئے کہتی ہوں کہ تم میرے فرزند بشر کو میرا سلام پہونچا دیجئے۔) اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت ’كِتَابُ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ‘ میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1449 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.