Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2073

Chapter on What Should Be Said at the Time of Death

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on What Should Be Said at the Time of Death

Zujajat al-Masabih 2073Volume 1

English

Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon Abu Salamah (may Allah be pleased with him) when his eyes were wide open in death. The Prophet (ﷺ) closed them and said, "When the soul is taken, the sight follows it." Some of his family members cried out, so he said, "Do not supplicate for yourselves except with good, for the angels say 'Ameen' to what you say." Then he said, "O Allah, forgive Abu Salamah, raise his rank among the guided, and grant him a successor in his descendants who remain. Forgive us and him, O Lord of the worlds. Make his grave spacious and illuminate it for him."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٧٣ - وَعَنْهَا (رضي الله عنها) قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ الله عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الرُّوْحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ فَضَلَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: «لَا تَدْعُوْا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُوْنَ عَلَى مَا تَقُوْلُوْنَ»، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوَّرْ لَهُ فِيْهِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2408
امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوسلمہ کے انتقال کے بعد ابوسلمہ کے گھر تشریف لائے اور ملاحظہ فرمائے کہ ابوسلمہ کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں تو آپ نے ان کی آنکھیں بند کیں اور فرمائے (جب روح نکالنے کے لئے فرشتے آتے ہیں تو مرنے والا یہ سماں دیکھتا رہتا ہے اور) روح نکل جانے سے بینائی بھی اس کے ساتھ چل جاتی ہے (اور اس میں آنکھ بند کرنے کی قوت باقی نہیں رہتی، اس لئے آنکھ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں، اس لئے حضور ابوسلمہ کی آنکھیں بند کر دئے، اس سے معلوم ہوا کہ مردے کی آنکھیں بند کر دیا کریں) حضور کے یہ الفاظ سن کر گھر والے سمجھے کہ ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا ہے، اس لئے رونا اور چیخنا شروع کئے (جب غم زیادہ ہوتا ہے تو اپنے کو کوسنے لگتے ہیں اور ابوسلمہ کے گھر میں بھی یہی ہو رہا تھا اس لئے) حضور فرمائے (چیخنا، چلّانا بے صبری کی علامت ہے ایسا نہ کرنا چاہئے اور اپنے کو کوس لینا بھی نہیں چاہئے اس لئے کہ تم) اس وقت فرشتے موجود رہتے ہیں اور جو کچھ تم کہتے ہیں اسی پر آمین کہتے رہتے ہیں (جب تم اپنے کو کوسنے لگو گے تو فرشتوں کے آمین کہنے سے وہ بد دعا تمہارے حق میں بھی قبول ہو جائے گی اس لئے کوسنے سے بچو۔) پھر اس کے بعد حضور ابوسلمہ کے لئے اس طرح دعا الٰہی! ابوسلمہ کی مغفرت فرمائیے اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سب سے زیادہ ان کا درجہ بڑھائیے، الٰہی! باقی ماندہ لوگوں کو سنبھالنے والا چلا گیا، آپ ابوسلمہ کے خلیفہ ہو کر سب کو سنبھالئے اور، ہماری بھی مغفرت فرما، اور ان کی بھی مغفرت فرمائیے، اے تمام عالم کے پروردگار! اور ان کی قبر کو کشادہ کر دے اور ان کی قبر میں نور بھر دے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 920a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.