Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2082

Chapter on Washing and Shrouding the Deceased

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Washing and Shrouding the Deceased

Zujajat al-Masabih 2082Volume 1

English

Umm Atiyyah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) came to us while we were washing his daughter, and he said, "Wash her three times, five times, or more if you see it necessary, with water and sidr (lote leaves). In the final wash, use camphor or something from camphor. When you are finished, inform me." When we finished, we informed him, and he gave us his waist-wrapper, saying, "Shroud her in it." In another narration: "Wash her an odd number of times—three, five, or seven—and begin with the right side and the parts washed in wudu." [Agreed upon] In the narration of Abdur Razzaq from Aisha (may Allah be pleased with her), she saw a woman combing the hair of a deceased woman and said, "Why are you combing your deceased?" 1 Imam Abu Hanifah also narrated from her that she saw a deceased person having his hair combed and said, "Why are you combing your deceased?"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٨٢ - عَنْ أُمَّ عَطِيَّةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُوْرًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَانُوْرٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ، فَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ تَعْنِي إِزَارَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا وَابْدَأْنَ بِمَيَا مِنْهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوْءِ مِنْهَا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا رَأَتْ امْرَأَةً يكدّونَ رَأَسْهَا بِمُشْطٍ، فَقَالَتْ: عَلَامَ تَنصُوْنَ 1 مِيَّتَكُمْ؟ وَرَوَى إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ عَنْهَا أَنَّهَا رَأَتْ مِيِّتًا يُسَرَّحُ رَأْسَهُ ، فَقَالَتْ: عَلَى مَا تَنصُوْنَ مِيَّتَكُمْ؟

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped labelNoor 2420Noor 2421
2/2418-2419۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا، ہم چند عورتیں ان کو غسل دے رہے تھے، ایسے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو تین بار یا پانچ بار اور مناسب سمجھو تو زیادہ سے زیادہ (سات بار) بیری کے پتے ڈال کر پکایا ہوا نیم گرم پانی سے غسل دینا اور آخری مرتبہ کافور ملے ہوئے پانی سے نہلانا، جب تم غسل دینے سے فارغ ہو جاؤ تو غسل سے فارغ ہونے کی مجھے اطلاع دینا (حضور کے حکم کی تعمیل کر کے) غسل سے فارغ ہونے کی ہم حضور کو اطلاع کر دئے تو حضور اپنا تہہ بند ہماری طرف پھینک کر فرمائے کہ (عورتوں کے کفن کے پانچ کپڑے ہوتے ہیں، جن میں سے ایک ازار بھی ہوتی ہے) میرے اس تہہ بند کو ازار کے طور پر استعمال کرو تاکہ میرا یہ تہہ بند ان کے جسم کو لگا ہوا رہے اور اس کی برکت (جیسا کہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔12) شامل حال رہے، بزرگوں کی عادت یہ ہے کہ ایک داؤنی (اوڑھنی) دیتے ہیں کہ اس کو رکھ چھوڑیں اور کفن میں اس کا استعمال کریں، حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی فعل سے ماخوذ ہے۔ اس لئے مریدنیوں کو داؤنی دینا درست ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور عبدالرزاق کی روایت میں اس طرح ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ملاحظہ فرمائیں کہ چند عورتیں ایک عورت کو غسل دے رہی تھیں اور اس کے سر میں کنگھی کر رہی تھیں تو ام المؤمنین ان عورتوں سے ارشاد فرمائیں کہ تم اس مردہ کو جو کنگھی کر رہی ہو (تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے) کس بناء پر تم کنگھی کر رہی ہو، جب تک ثابت نہ ہو تم کو کنگھی کرنا جائز نہیں تھا) اور ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ملاحظہ فرمائیں کہ چند عورتیں ایک عورت کو غسل دے رہی تھیں اور اس کے سر میں کنگھی کر رہی تھیں تو ام المومنین نے ان عورتوں سے ارشاد فرمائیں کہ تم اس عورت کو کیوں کنگھی کر رہی ہو، تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے جب تک ثابت نہ ہو تم کو کنگھی کرنا جائز نہیں تھا۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1253 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 939a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Why are you combing your deceased?

(1) His statement: "Why are you combing your deceased?" Ash-Shafi'i said: "Her hair should be combed, made into three braids, and placed behind her back." This is also the opinion of Ahmad and Ishaq. We say: The hadith cited by Ash-Shafi'i and Ahmad does not indicate that the Prophet (ﷺ) commanded this. It only mentions that Umm Atiyyah braided her hair into three braids, and it is possible that she did so on the Prophet's (ﷺ) order, but rulings cannot be established based on possibilities. Moreover, what is mentioned is adornment, and the deceased has no need for it. This is stated in Umdat al-Qari. The narration of Abdur Razzaq and our Imam Abu Hanifah mentioned in this book supports our view.

Note 1

قوله

(۱) قوله: علام تنصون ميتكم : قال الشافعي يُسرح شعرها، ويجعل ثلاث ظفائر، ويجعل خلف ظهرها، وبه قال أحمد وإسحاق. قلنا: ليس في الحديث الذي استدل به الشافعي وأحمد إشارة من النبي له إلى ذلك. وإنما المذكور فيه الإخبار من أم عطية أنها مشطت شعرها ثلاثة قرون، وكونها فعلت ذلك بأمر النبي ﷺ احتمال، والحكم لا يثبت به، ولأن ما ذكره زينة، والميت مستغن عنها. قاله في عمدة القاري». وحديث عبد الرزاق وإمامنا أبو حنيفة الذي ذكر في هذا الكتاب يؤيد مذهبنا.

Note 1

ف: ان دونوں مذکورہ حدیثوں سے ثابت ہوا کہ میت کے بالوں میں کنگھی نہ کی جائے، اس لئے کہ بالوں میں کنگھی کرنا زینت کے لئے ہوا کرتا ہے اور میت کو زینت کی ضرورت نہیں، یہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے اور مذہب حنفی بھی یہی ہے۔12