English
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) came to Abdullah ibn Ubayy after he had been placed in his grave. He ordered him to be taken out, placed him on his knees, blew on him with his saliva, and clothed him in his shirt. 1 He had also given Abbas a shirt.
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٠٨٥ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللهِ ﷺ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيَّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ 1 قَمِيصَهُ. قَالَ: وَكَانَ كَسَا عَبَّاسًا قَمِيصًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2424
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی (جو منافقوں
کا سردار تھا) جب اس کی نعش قبر میں رکھ دی گئی (تو عبداللہ بن ابی کے فرزند جو سچے مسلمان تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کئے: حضور میرے والد عبداللہ بن ابی دفن کئے جا رہے ہیں،
حضور تشریف لے چلیں تا کہ آپ کی برکت سے اس کی مغفرت ہو جائے، عبداللہ بن ابی کے فرزند
کے کہنے سے) حضور عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لے گئے، عبداللہ بن ابی کو قبر کے گڑھے میں
ڈال دیا گیا تھا، حضور کے حکم سے پھر باہر نکالا گیا تو حضور اپنے گھٹنوں کا ٹیکہ دے کر اس کو بٹھائے اور
اپنا مبارک تھوک اس کے منھ میں ڈالے (تا کہ منکر و نکیر کے سوال کے وقت آسانی ہو) پھر عبداللہ
بن ابی کو اپنا قمیص پہنائے (تا کہ قمیص کی برکت سے عذاب قبر سے محفوظ رہے، قمیص دینے میں ایک
یہ بھی حکمت تھی کہ جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر کے بعد سب کافروں کے ساتھ قید ہو کر
مدینہ منورہ میں لائے گئے تو حضرت عباس کے جسم پر کرتہ نہیں تھا، حضرت عباس طویل القامت تھے
کسی کا کرتہ حضرت عباس کو نہیں آیا، عبداللہ بن ابی بھی طویل القامت تھا اس کا کرتہ عباس کو آیا اس
لئے) عبداللہ بن ابی نے اپنا کرتہ حضرت عباس کو پہنایا تھا (عبداللہ بن ابی کا یہ احسان حضرت کو یاد
تھا، اس کا احسان اتارنے کے لئے اپنا کرتہ عبداللہ بن ابی کو پہنائے، اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ
عبداللہ بن ابی کے فرزند جو سچے مسلمان تھے خوش ہو جائیں، یہ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے اخلاق حسنہ کہ سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی آپ کے یہ کریمانہ اخلاق اور کریمانہ برتاؤ تھا،
اس لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا ہے ”وَإِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ“۔ (سورۃ
قلم، پ:29، ع:1، آیت نمبر:4) بے شک اے رسول آپ بڑے حسن اخلاق والے ہیں، اس کو
کریمانہ اخلاق کا یہ اثر ہوا کہ ایک ہزار کافر اس کریمانہ برتاؤ کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے۔) اس حدیث
کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1270 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1350 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2773 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: "And clothed him in his shirt." Al-'Allamah Al-'Ayni said in Umdat al-Qari: "This indicates that shrouding in a shirt is permissible. It also shows that it is permissible to remove a deceased person from the grave if there is a need or benefit. Blowing saliva is also mentioned." Al-Karmani said: "If the earth has been leveled over him, it is too late to remove him." Ibn Wahb said: "If the earth has been poured over him, it is too late to remove him, and he should be prayed over in his grave." Ashhab said the same.
Note 1
(۱) قوله وألبسه قميصه وقال العلامة العيني في عمدة القاري فيه دلالة على الكفن في القميص، وفيه جواز إخراج الميت من قبره الحاجة أو لمصلحة ونفث الريق فيه قاله الكرماني. وقال ابن وهب: إذا سوى عليه التراب فات إخراجه، وقاله يحيى بن يحيى، وقال أشهب : إذا أهيل عليه التراب فات إخراجه، ويصلى عليه في قبره انتهى.