Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2095

Chapter on Washing and Shrouding the Deceased

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Washing and Shrouding the Deceased

Zujajat al-Masabih 2095Volume 1

English

Sa'd ibn Ibrahim reported from his father that Abdur Rahman ibn Awf was brought food while he was fasting. He said, "Mus'ab ibn Umayr was killed, and he was better than me. He was shrouded in a cloak; if his head was covered, his feet would be exposed, and if his feet were covered, his head would be exposed. I think he also said, 'Hamzah was killed, and he was better than me.' Then the world was spread out for us, or he said, 'We were given from the world what we were given,' and we feared that our good deeds might have been hastened for us." Then he began to cry until he left the food.

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٩٥ - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، كُفَنِ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطَّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِنْ غُطَّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ، وَأَرَاهُ قَالَ: وَقُتِلَ حَمْزَةٌ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ: أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا، وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُوْنَ حَسَنَاتُنَا عُجَّلَتْ لَنَا، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2440
سعد بن ابراہیم رضی اللہ عنہما اپنے والد ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روزہ سے تھے، افطار کے وقت آپ کے لئے کھانا لایا گیا (تکلف کا کھانا دیکھ کر فرمائے، ہماری تو یہ حالت ہے کہ دنیا کی نعمتیں ہم کو مل رہی ہیں) (یہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) اور ایک مصعب بن عمیر بھی تھے کہ جن کے سامنے نعمتوں کا کھانا آنا تو کیا کہ جب وہ شہید ہوئے تو ان کو کفن تک پورا نہ ملا (پھر کسر نفسی سے فرمائے) حالانکہ وہ مجھ سے بہتر تھے (ان کے کفن کی کیا حالت بیان کروں) اتنا چھوٹا کفن تھا کہ جب اس سے سر چھپاتے تو پاؤں باہر ہو جاتے اور اگر پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا تھا، راوی حدیث ابراہیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خیال پڑتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے یہ بھی فرمایا کہ ایسا ہی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا حال تھا کہ جب وہ شہید ہوئے (تو ان کو بھی پورا کفن نہ (یہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) ملا ان کے کفن کی بھی وہی حالت تھی کہ سر چھپاتے تو پیر کفن سے نکل جاتے، اور پیر چھپاتے تو سر کھل جاتا تھا، تو سر کو چھپا کر پیروں پر گھاس ڈال دی گئی) حالانکہ وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہونے کے لحاظ سے) مجھ سے، بہتر تھے (اب ہماری حالت سنئے) خوب دنیا ملی (جس کی وجہ طرح طرح کے کھانے کھا رہے ہیں) خدا نخواستہ کہیں ہماری نیکیوں کا یہ بدل تو نہیں ہے، خدا ایسا نہ کرے (ایسا ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے دنیا کی یہ نعمتیں ہم کو دے رہا ہو، اور آخرت میں بھی سب صحابہ کے ساتھ آخرت کی نعمتیں سرفراز کرے) حضرت عبدالرحمن یہ کہہ کر اس درد سے رونے لگے (باوجود اس کے کہ روزہ دار تھے، بھوک تھی) رونے کی وجہ سے کھانا نہ کھا سکے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1274 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4045 (unverified) 91% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.