العربية
Typed, pending editorial approval
٢١٠١ - وَعَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ عَلِيَّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ الله نَنْتَظِرُ جَنَازَةً، فَمَرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَقُمْنَا، فَقَالَ: مَا هَذَا الْقِيَامُ؟ فَقُلْتُ: مَا تَأْتُونَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ؟ قَالَ أَبُو مُوسَى: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «إِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ أَوْ يَهُودِيَّ أَوْ نَصْرَانِي فَقُوْمُوْا؛ فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ لَهَا تَقُوْمُوْنَ، إِنَّمَا تَقُوْمُوْنَ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ». فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّمَا صَنَعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَرَّةً وَاحِدَةً، كَانَ يَتَشَبَّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ فِي الشَّيْءِ، فَإِذَا نُهِيَ عَنْهُ تَرَكَهُ. رَوَاهُ الصَّحَاوِيُّ.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہوجاتی تھی، اس کو آپ ترک فرما دیتے تھے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونا اہل کتاب کی مشابہت سے تھا کہ اہل کتاب جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے، پھر جب آپ کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کی ممانعت کی گئی تو باوجود یہ کہ اس میں فرشتوں کی تعظیم تھی مگر ممانعت کی وجہ سے آپ جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونا ترک فرما دئے، اس لئے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا منسوخ ہوگیا۔) اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔