English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "A funeral passed by, and the people praised the deceased. The Prophet (ﷺ) said, 'It has become obligatory.' Then another funeral passed by, and the people spoke ill of the deceased. The Prophet (ﷺ) said, 'It has become obligatory.' Umar asked, 'What has become obligatory?' He said, 'This one, you praised him, so Paradise has become obligatory for him. This one, you spoke ill of him, so Hell has become obligatory for him. You are Allah's witnesses on earth.'" [Agreed upon]
In another narration: "The believers are Allah's witnesses on earth."
Al-Hakim narrated something similar, in which the Prophet (ﷺ) said, "Yes, O Abu Bakr, Allah has angels who speak on the tongues of the children of Adam about the good and evil in a person." Al-Hakim said: "This hadith is authentic according to the conditions of Muslim."
العربية
Typed, pending editorial approval
٢١٢٢ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: مَرُّوْا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: وَجَبَتْ»، ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: «وَجَبَتْ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا وَجَبَتْ؟ فَقَالَ: «هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «الْمُؤْمِنُوْنَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ».
وَرَوَى الْحَاكِمُ نَحْوَهُ، وَفِيْهِ : فَقَالَ: «نَعَمْ، يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ بَنِي آدَمَ بِمَا فِي الْمَرْءِ مِنَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ». وَقَالَ الْحَاكِمُ: هَذَا حَدِيثُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ.
اردو
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ چند صحابہ کا (رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) ایک جنازہ پر سے گزر ہوا (صحابہ کو معلوم ہوا کہ یہ فلاں صاحب کا
جنازہ ہے،) تو صحابہ میت کی بہت تعریف کرنے لگے (صحابہ کو میت کی تعریف کرتے ہوئے سن کر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: اس میت کے لئے واجب ہوگئی، اس کے بعد صحابہ کا
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) ایک دوسرے جنازہ پر سے گزر ہوا (صحابہ کو معلوم ہوا
کہ یہ فلاں شخص کا جنازہ ہے) تو صحابہ میت کی برائیاں کرنے لگے (صحابہ کو میت کی برائیاں بیان
کرتے ہوئے سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: اس میت کے لئے واجب
ہوگئی، حضور کو یہ فرماتے ہوئے سن کر عمر رضی اللہ عنہ عرض کئے: (یا رسول اللہ! ہماری سمجھ میں نہیں آیا،
حضور دونوں کے لئے واجب ہوگئی، واجب ہوگئی، فرمائے تو) کیا چیز واجب ہوئی؟ تو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: پہلی میت کی تم جو تعریف کئے ہو (یہ علامت ہے کہ) وہ میت جنت
کی مستحق ہے (اللہ اپنے فضل و کرم سے اس کو جنت دے گا، اس لئے کہ جنت نیکیوں کا بدلہ ہے) اور
دوسری میت کی تم جو برائیاں بیان کئے ہو (یہ علامت ہے کہ) وہ میت دوزخ کی مستحق ہے وہ دوزخ
میں جائے گی (اس لئے کہ برائیوں کا بدلہ دوزخ ہے۔) صاحبو! تم زمین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے
گواہ بنائے گئے ہو (اجتماعی طور پر جو بات تمہارے دل میں آئے، اور جو تمہاری زبان سے نکلے وہ
حق ہوتی ہے، اسی لئے میں کہا ہوں کہ پہلے مردہ کی نیکیوں کی وجہ سے تم جو تعریف کئے اس سے اس
کے لئے جنت واجب ہوگئی اور دوسرے مردے کی جو تم برائیاں بیان کئے، اس کے لئے میں کہا
ہوں، اس کے لئے دوزخ واجب ہوگئی۔ اس لئے کہ تم اللہ کے گواہ ہو۔)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ مسلمان زمین پر اللہ کے
گواہ ہیں (اجتماعی طور سے جو اُن کے منہ سے نکلتا ہے وہ حق ہوتا ہے۔) اور حاکم بھی اسی طرح
روایت کئے ہیں۔
اور حاکم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرماتے ہیں کہ اجتماعی طور پر مسلمان جو کچھ کہتے ہیں وہ اس لئے حق ہوتا ہے کہ بظاہر تو مسلمان کہتے
ہیں، حقیقت میں فرشتے ان کی زبان سے کہلواتے ہیں (اسی لئے ان کا اجتماعی قول حق ہوتا ہے۔)
اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے موافق صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1367 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 949a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.