Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2146

Chapter on Walking with the Funeral and Praying Over It

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Walking with the Funeral and Praying Over It

Zujajat al-Masabih 2146Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Indeed, the offspring of the believers are in Paradise, cared for by Ibrahim." [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak, and he said: "This Hadith has an authentic chain, but the two Sheikhs did not narrate it"] Al-Bayhaqi also narrated from Abu Hurairah that when the deceased is a child, it is recommended for the one praying to say: 'O Allah, make him a precursor, a forerunner, and a reward for us.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٤٦ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ ذَرَارِي الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ، يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ . رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ». وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ مِنْ حَدِيْثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ إِذَا كَانَ الْمَيِّتُ طِفْلًا اسْتُحِبَّ أَنْ يَقُوْلَ الْمُصَلَّى اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا سَلَفًا وَفَرَطًا وَأَجْرًا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2517Noor 2518
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: مسلمانوں کی نابالغ اولاد جو کم سنی میں مر جاتی ہے ان کو جنت میں رکھتے ہیں اور ان کی نگرانی اور پرورش حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے رہتے ہیں۔ اسی لئے بیہقی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کئے ہیں کہ بچے جب مر جائیں تو ان کی نماز جنازہ میں (تیسری تکبیر کے بعد) یہ دعاء کی جائے: اے اللہ! اس مردہ بچے کو ہمارے صبر کا صلہ (یعنی مجمع البحار اور مرقات سے لئے گئے ہیں۔) بنا دیجئے اور اس بچے کو ہمارے لئے مقدمۃ الجیش بنائیے (تاکہ یہ ہماری شفاعت کر کے ہمارے جنت میں جانے کا انتظام کرے اور اس بچے کی وجہ سے ہم کو جو رنج وغم ہوا ہے،) یہ بچہ ہم کو اس کا ثواب دلانے کا ذریعہ بنے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے، کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، گو بخاری اور مسلم نے اس کی روایت نہیں کی ہے۔ مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچے جو مر جاتے ہیں ان سے قبر میں منکر ونکیر کا سوال نہیں ہوتا ہے، ان مردہ بچوں کی روحوں کو جنت میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نگرانی میں رکھتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کی مغفرت ہو جاتی ہے تو جو دعاء مغفرت بالغ مسلمانوں کے لئے کی جاتی ہے، ان بچوں کے لئے وہ دعاء کرنے کا موقع اب نہیں رہا، اس لئے بچوں کے لئے کوئی دوسری دعاء ان کے مناسب کرنا چاہئے۔