اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2534
ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ (جو مشاہیر تابعین سے ہیں) ان سے روایت ہے،
وہ فرماتے ہیں کہ حبشی مکہ مکرمہ کے اطراف کے مواضعات میں سے ایک موضع ہے، یہاں عبدالرحمٰن
بن ابی بکر رضی اللہ عنہما تھے اور اسی موضع میں ان کا انتقال ہو گیا، تو ان کا جنازہ مقام حبشی سے مکہ معظمہ
لایا گیا اور وہ مکہ معظمہ میں دفن کئے گئے، جب ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (حج کے لئے)
مکہ معظمہ آئیں تو اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کی زیارت کے لئے ان کی قبر پر تشریف لائیں اور
(بہت درد کے ساتھ) یہ اشعار پڑھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1055 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "If I had witnessed your death, I would not have visited you." Its explanation is in the chapter on visiting graves, so refer to it.
Note 1
(۱) قوله: ولو شهدتك ما زرتك : تحقيقه في باب زيارة القبور، فراجعه.
Note 1
جذیمہ (یہ تفصیل اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) عراق اور عرب کا بادشاہ تھا اس کے دو وزیر تھے، ایک کا نام مالک اور دوسرے کا نام عقیل تھا، جذیمہ کے یہ دو وزیر چالیس سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے، ان کی آپس میں مدت دراز تک، ہم نشینی اور خلوصی محبت کی وجہ سے لوگ کہتے تھے کہ اب یہ ہرگز جدا نہ ہوں گے، لیکن نعمان نے ان کو قتل کر دیا، اس واقعہ کو متمم بن نویرہ شاعر نے اپنے بھائی مالک بن نویرہ کے مرثیہ میں تشبیہاً اس طرح بیان کیا ہے کہ جس طرح جذیمہ بادشاہ کے دو وزیر چالیس سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے، اسی طرح ہم بھی آپس میں ان دو وزیروں کی طرح ہم نشین اور محبت رکھنے والے تھے، ایک دوسرے سے جدا نہ ہونے تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو قتل کر دیا، متمم بن نویرہ شاعر کہتا ہے کہ اے مالک ہم باوجود ایک مدت دراز تک ساتھ رہنے کے تیرے قتل کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مدت دراز ایک خواب تھا اور ہم اس طرح جدا ہوگئے کہ کبھی ایک ساتھ نہ رہے تھے، اب اسی واقعہ کو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حسب حال پا کر اپنے بھائی کے فراق میں مذکورہ دو شعر پڑھیں کہ: اے بھائی ہم اور تم جذیمہ بادشاہ کے ہم نشین وزیروں کی طرح تھے اور آپس میں ایک مدت دراز تک اس طرح رہے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب یہ جدا نہ ہوں گے لیکن جب جدائی کا وقت آیا تو باوجود اتنی طویل مدت تک ساتھ رہنے کے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم ایک رات بھی ساتھ نہیں رہے۔ ان اشعار کے پڑھنے کے بعد حضرت ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم اگر میں تمہاری موت کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتی تو تمہیں اسی مقام حبشی میں دفن کرتی جہاں تمہاری وفات ہوئی تھی)(اس لئے جو شخص جہاں انتقال کرے اس کو وہیں کے قبرستان میں دفن کرنا مسنون ہے۔) اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ عام عورتوں کی عدت ان کے شوہروں کی وفات کے بعد (4) ماہ دس دن ہے، اسی لئے وہ عدت گزرنے کے بعد کسی سے بھی نکاح کر سکتے ہیں، بخلاف اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کی عدت ان کے وفات تک ہے کہ امہات المؤمنین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تا حیات کسی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے (اس لئے اپنے بھائی سے حضرت عائشہ فرما رہی ہیں کہ میں عدت (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) میں ہوں، اگر میں تمہارے انتقال کے وقت تمہارے جنازہ میں شریک رہتی تو دوبارہ تمہاری زیارت کے لئے نہ آتی، کیونکہ زمانہ عدت میں بلا ضرورت شدید کے کہیں جا نہیں سکتے، ہاں ایسی کوئی خاص ضرورت ہو تو جا سکتے ہیں، چونکہ میں تمہارے انتقال کے وقت (تمہارے دیدار سے محروم رہی) اس لئے اب زیارت کے لئے آ گئی ہوں (تاکہ یہ آخری دیدار کے قائم مقام ہو جائے۔) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔