اردو
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی وعظ کہے گا وہ یا تو حاکم ہوگا یا مقرر کردہ شخص ہوگا یا متکبر ہوگا۔
(ابوداؤد نے اس کی روایت کی ہے۔)
اور دارمی نے عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا
سے روایت کرتے ہیں۔
اور ایک روایت میں متکبر کی جگہ ریاکار کا ذکر ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3665 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 240 (unverified) 78% confidence
Mishkat (candidate) 240
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مطلب یہ ہے کہ یہ فعل صرف تین شخصوں سے صادر ہوتا ہے، ان میں سے دو حق پر ہیں یعنی امیر اور مامور کہ ان دونوں کو وعظ بیان کرنا چاہیے، البتہ متکبر یا ریاکار کو وعظ نہ کہنا چاہیے، وعظ بیان کرنے کا حق اولاً حاکم کا ہے کیوں کہ وہ رعیت پر مہربان ہوتا ہے اور ان کی صلاح اور فلاح کو خوب جانتا ہے، اور اگر خود نہ کہے گا تو علماء میں جو صاحب تقویٰ اور بے طمع ہوں ان کو مقرر کردے گا۔