English
Hubshi ibn Junadah (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Whoever asks without being in need is only consuming embers.” [Narrated by Al-Tahawi]
In a narration by Tirmidhi, Abu Dawud, Al-Darimi, Ahmad, Nasa’i, and Ibn Majah: “Charity is not permissible for the wealthy.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٢٩٦ - وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ1 فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الْجُمْرَ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِلتَّرْمِذِي وَأَبِي دَاوُدَ وَالدَّارِي وَأَحْمَدَ وَالنَّسَائِي وَابْنِ مَاجَهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: «لَا تَحِلُّ2 الصَّدَقَةُ لِغَنِيَّ».
اردو
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس کسی شخص نے بغیر فقر و احتیاج کے سوال کیا
(اور بغیر استحقاق کے مال حاصل کرلیا تو گویا وہ مال نہیں کھاتا ہے بلکہ) وہ آگ کھاتا ہے۔
اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔
اور ترمذی، ابوداؤد، دارمی، امام احمد، نسائی اور ابن ماجہ، ان سب کتابوں کی
ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے کہ غنی کے لئے صدقہ لینا
حلال نہیں ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 653 (unverified) 93% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 654 (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement: “Without being in need.” Al-Tahawi said: “This narration from Hubshi confirms what the Hanafis have reported: that asking is only permissible in cases of need.”
Note 2
(2) The statement: “Charity is not permissible for the wealthy.” In Sharh Al-Nuqayah: “We do not give charity to wealthy soldiers or pilgrims. Malik and Al-Shafi’i permitted giving charity to wealthy soldiers based on the narration in Sunan Abu Dawud and Ibn Majah from Abu Sa’id Al-Khudri, who said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Charity is not permissible for the wealthy except for five: the collector of charity, one who buys it with his wealth, a debtor, a fighter in the path of Allah, or a poor person who receives charity and gives it as a gift to a wealthy person.” We rely on the narration in Abu Dawud and Tirmidhi from Abdullah ibn Amr ibn Al-As: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Charity is not permissible for the wealthy...”’ Al-Hakim narrated it and said: ‘It is authentic according to the conditions of the two Shaykhs, but they did not narrate it.’” Ibn Al-Humam said: “It is said that this hadith (from Ata ibn Yasar) is not established, and even if it were, it would not outweigh the hadith of Muadh, which was narrated by the authors of the six books along with its counterpart: ‘Charity is not permissible for the wealthy.’ Even if it were strong, the hadith of Muadh would outweigh it because it is prohibitive, while the other is permissive.”
Note 1
(۱) قوله: من غير فقر : وقال الطحاوي: فهذا حبشي قد حكى هذا عن النبي ، فوافق ما حكى من ذلك ما حكاه الحنفية من أن المسألة إنما تحل بالفقر.
Note 2
(۲) قوله: لا تحل الصدقة لغني: لذلك قال في شرح النقاية»: لا يدفع الزكاة على أغنياء الغزاة والحجاج عندنا، وجوز مالك والشافعي دفعها إلى أغنياء الغزاة؛ لما في سنن أبي داود وابن ماجه عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله ﷺ: لا يحل الصدقة لغني إلا لخمسة: العامل عليها، ورجل اشتراها بماله، أو غارم، أو غاز في سبيل الله، أو مسكين تصدق بها عليه، فأهديها لغني، ولنا ما في أبي داود والترمذي من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله ﷺ قال: لا تحل الصدقة لغني إلخ رواه الحاكم، وقال: صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه انتهى. وقال ابن الهمام: قيل: لم يثبت هذا الحديث يعني حديث عطاء بن يسار، ولو ثبت لم يقو قوَّةً ترجح حديث معاذ؛ فإنه رواه أصحاب الكتب الستة مع قرينه من الحديث الآخر، يعني قوله: لا تحل الصدقة لغني، ولو قوي قوته ترجح حديث معاذ بأنه مانع و ما رواه مبيح.
Note 1
ف(1): صدر کی حدیث میں بغیر فقر و احتیاج کے سوال کرنے کی جو وعید مذکور ہے، اس سے مسلک حنفی کی تائید ہوتی ہے کہ سوال اسی وقت کرنا جائز ہے جبکہ کوئی فقر اور تنگی میں ہو، جیسا کہ امام طحاوی نے فرمایا ہے۔ ف(2): واضح ہو کہ حدیث شریف کے دوسرے حصے میں ارشاد ہے کہ غنی کے لئے صدقہ لینا حلال نہیں، اس بارے میں مرقات میں محیط کے حوالے سے لکھا ہے کہ غنی یعنی تونگری کی تین قسمیں ہیں: (1) غنی کی ایک قسم یہ ہے کہ جس سے زکات واجب ہوتی ہو اور وہ یہ ہے کہ کوئی شخص نصاب کا مالک ہو، اور اس پر سال بھی گزرے اور وہ مال نامی یعنی اس میں بڑھنے کی صلاحیت موجود ہو۔ (2) غنی کی دوسری قسم یہ ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کو صدقہ لینا اس لئے جائز نہیں کہ اس پر صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے اور صدقہ فطر اور قربانی واجب ہونے کا نصاب یہ ہے کہ کسی کے پاس اس کے ضروری اسباب سے زیادہ اتنی قیمت کا مال و اسباب موجود ہو کہ اتنی قیمت پر زکات واجب ہو جاتی ہے اور (3) غنی کی تیسری قسم یہ ہے کہ جس کی وجہ سے اگر کوئی اس کو صدقہ دیدے تو وہ صدقہ تو لے سکتا ہے لیکن سوال نہیں کر سکتا۔ اور وہ یہ ہے کہ اس کے پاس ایک دن کی خوراک اور اتنا کپڑا موجود ہو، جس سے اس کی ستر پوشی ہو جائے۔ مرقات کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔ اور شرح نقایہ میں لکھا ہے کہ زکات اغنیاء کو نہ دی جائے چاہے وہ جہاد کے لئے جا رہے ہوں یا حج کے لئے اور یہی شافعی مذہب ہے۔12