Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كتاب الزكاة

Hadith 2298

بَابُ مَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ

In this book

Current reading

كتاب الزكاة

بَابُ مَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ

Zujajat al-Masabih 2298Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٢٩٨ - وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِي (رضي الله عنه) يَقُوْلُ: أَمَّرَنِي1 رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى قَوْمِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي مِنْ صَدَقَاتِهِمْ، فَفَعَلَ، وَكَتَبَ لِي بِذَلِكَ كِتَابًا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ لَمْ يَرْضَ بَحُكْمِ نَبِيَّ وَلَا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيْهَا هُوَ مِنَ السَّمَاءِ، فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَرَوَى أَبُوْ دَاوُدَ نَحْوَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1630 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He appointed me.

(1) The statement: “He appointed me.” Al-Tahawi said: “This Suda’i was appointed by the Messenger of Allah (ﷺ) over his people, and it is impossible that he appointed him while he was disabled. He then asked for some of his people’s charity, which is their Zakat, and the Prophet (ﷺ) gave it to him without preventing him due to his physical health. Then another man asked him, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If you are among the portions that Allah, the Almighty, has divided the charity into, I will give you from it.’ The Messenger of Allah (ﷺ) thus referred the ruling on charity to what Allah, the Almighty, referred it to in His words: ‘Charities are only for the poor and the needy...’ (At-Tawbah 9:60). Whoever falls under the category of any of those groups is among the recipients of charity, as Allah, the Almighty, has designated for them in His Book and His Messenger in his Sunnah, whether they are disabled or healthy.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: أمرني إلخ وقال الطحاوي: فهذا الصدائي قد أمره رسول الله له على قومه، ومحال أن يكون أمره وبه زمانة، ثم قد سأله من صدقة قومه، وهي زكاتهم، فأعطاه منها ولم يمنعه منه لصحة بدنه، ثم سأله الرجل الآخر بعد ذلك، فقال له رسول الله ﷺ: إن كنت من الأجزاء الذين جزأ الله عز وجل الصدقة فيهم أعطيتك منها، فرد رسول الله ﷺ بذلك حكم الصدقات إلى ما ردَّها الله عز وجل إليه بقوله: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ (التوبة: ٦٠) الآية. فكل من وقع عليه اسم صنف من تلك الأصناف فهو من أهل الصدقة الذين جعلها الله عز وجل لهم في كتابه، ورسوله في سنته زمنًا كان أو صحيحًا.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مستحقین زکات کا ذکر ہے، ان کو اس آیت مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے وہ آیت یہ ہے (سورۃ توبہ، آیت نمبر:60، پ:10، ع:8) ”إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ“ (فرض صدقات یعنی زکات تو صرف غریبوں کا اور محتاجوں کا اور زکات کے وصول کرنے والوں کا اور ان کا حق ہے جن کی دلجوئی کرنا منظور ہے اور غلاموں کو آزاد کرانے میں صرف کرنا اور قرض داروں (کے قرض کی ادائی) میں خرچ کرنا اور راہ جہاد میں صرف کرنا، اور مسافروں کی امداد میں دینا)۔ آیت شریفہ میں زکات کے مستحق آٹھ آدمیوں کو قرار دیا گیا ہے جن میں فقراء اور مساکین کی تفصیل حدیث 69 کے فائدہ میں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے گزر چکی ہے بقیہ اشخاص کی تفصیل ملاحظہ ہو: (3) عاملین یعنی محصلین زکات جو سلطان اسلام کی طرف سے مقرر ہوں ان کو باوجود غنی ہونے کے اس زکات میں سے بطور اجرت کے دینا جائز ہے مگر عامل بنی ہاشم ہو تو اس کو مال زکات میں سے دینا جائز نہیں۔ (4) ”وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ“: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ان لوگوں کو بھی زکات دی جاتی تھی جو مسلمان نہ ہوں مگر ان کے مسلمان ہونے کی امید پر یا ان کے شر اور فتنہ سے بچنے کے لئے، صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں ان کے زکات کے مستحق نہ ہونے پر اجماع ہوگیا اور اب یہ حکم باقی نہ رہا۔ (5) وَفِي الرِّقَابِ: یعنی مکاتب غلام، ایسا غلام جس کو اس کے مالک نے کہہ دیا ہے کہ تو اتنا روپیہ دیدے تو آزاد ہے، ایسے غلام کو زکات دینی جائز ہے تاکہ وہ اپنے آقا کو وہ رقم دے کر آزاد ہوجائے۔ (6) وَالْغَارِمِينَ: سے مراد ایسے قرضدار ہیں جن پر اتنا قرض ہو کہ قرض کے منہا ہونے کے بعد جو رقم باقی رہ جائے وہ نصاب سے کم ہو تو ایسے لوگوں کو زکات کی رقم لے کر ان کے قرض کو ادا کرنا درست ہے۔ (7) وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ: ایسے مجاہد اور غازی کو زکات کا دینا درست ہے جو اپنا گھر اور مال و اسباب تو رکھتا ہے مگر میدان جہاد میں گھر سے جدا ہو کر حاجت مند ہو گیا ہے اور یہاں اس کے پاس کوئی سامان نہیں، یہی حکم حاجی کا ہے۔ (8) وَابْنِ السَّبِيْلِ: ایسا مسافر جو اپنے وطن میں مال و دولت رکھتا ہو، لیکن مسافرت میں غریب الوطن ہو کر حاجت مند ہو گیا ہے، ایسے شخص کو بھی مال زکات دینا درست ہے۔ ان ساری صورتوں میں شرط یہ ہے کہ جن کو زکات دی جائے ان کو اس کا مالک کر دیا جائے، بغیر مالک بنائے زکات ادا نہ ہوگی۔ یہ سارے احکام فرض زکات سے متعلق ہیں۔ نفل صدقات میں یہ شرائط نہیں ہیں۔ ان تمام مذکورہ بالا صورتوں میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ زکات لینے والا ہاشمی نہ ہو۔ (ہدایہ تفسیرات احمدیہ)12