اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2861
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا
ہے تو حضور نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو
انھوں نے جواب دیا: ہاں (میں اللہ ہی کے معبود ہونے کی گواہی دیتا ہوں) پھر آپ نے دریافت
فرمایا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں؟ تو انھوں نے جواب
دیا: ہاں! (میں اس کا بھی اقرار کرتا ہوں) تو حضورﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ
اعلان کردو کہ لوگ کل سے روزہ رکھیں۔
اس کی روایت ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار
دیا ہے اور بیہقی نے بیان کیا ہے کہ یہ حدیث مختلف طریق سے آئی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2340 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 691 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1652 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1977 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 1977
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 2
(2) The statement: "A Bedouin." The hadith indicates that the testimony of an unknown person is accepted, and that the testimony of one person is accepted for the crescent moon of Ramadan. This is mentioned in Al-Mirqat. This is also found in Al-Durr Al-Mukhtar, Rad Al-Muhtar, and Al-‘Alamgiriyyah.
Note 3
(3) The statement: "They should fast tomorrow." In Al-Mirqat, it is said: "The lack of restriction to Ramadan indicates our position that it is valid to perform it with the intention of general fasting."
Note 2
(۲) قوله : أعرابي: دل الحديث على أن المستور تقبل شهادته، وعلى أن شهادة الواحد مقبولة في هلال رمضان. قاله في «المرقاة». كذا في الدر المختار» و رد المحتار» و «العالمگيرية».
Note 3
(۳) قوله: أن يصوموا غدا: قال في المرقاة»: وفي عدم تقييده برمضان إشعار إلى مذهبنا من أنه يصح أداؤه بنية مطلق الصوم.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”أَذِّنْ فِى النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا“ (اعلان کردو کہ لوگ کل سے روزہ رکھیں) اس بارے میں مرقات میں لکھا ہے کہ اگر رمضان کا روزہ مطلقاً صوم کی نیت سے رکھا جائے، یعنی یہ کہا جائے کہ کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں اور یہ نہ کہے کہ کل رمضان کے روزے کی نیت کرتا ہوں۔ اس طرح مطلق روزہ کی نیت کرنے سے رمضان کا روزہ ادا ہو جائے گا۔12