Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2551

Chapter on The Night of Decree

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on The Night of Decree

Zujajat al-Masabih 2551Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said, "On Laylat al-Qadr, Jibril descends with a group of angels, and they pray for everyone standing or sitting in remembrance of Allah. On the day of their Eid, meaning Eid al-Fitr, Allah boasts about them to His angels and says, 'O My angels, what is the reward of a worker who has fulfilled his work?' They say, 'Our Lord, his reward is that he should be given his full reward.' Allah says, 'My angels, My male and female servants have fulfilled their obligation to Me, then they went out supplicating to Me. By My Might, Majesty, Generosity, and Exaltedness, I will answer them.' He says, 'Return, for I have forgiven you and replaced your bad deeds with good deeds.' They return forgiven."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٥١ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِيلُ فِي كَبْكَبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُصَلُّوْنَ عَلَى كُلِّ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ عِيْدِهِمْ يَعْنِي يَوْمَ فِطْرِهِمْ بَاهَى بِهِمْ مَلَائِكَتَهُ ، فَل: يَا مَلَائِكَتِي، مَا جَزَاءُ أَجِيْرٍ وَفَّى عَمَلَهُ؟ قَالُوا : رَبَّنَا، جَزَاءُهُ أَنْ يُوْفَّى أَجْرُهُ. قَالَ: مَلَائِكَتِي، عَبِيدِي وَإِمَائِي قَضَوْا فَرِيضَتِي عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَرَجُوْا يَعُجُوْنَ إِلَى الدُّعَاءِ، وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكَرَمِي وَعُلُوْيْ وَارْتِفَاعِ مَكَانِي لَأُجِيْبَنَّهُمْ، فَيَقُوْلُ: ارْجِعُوْا قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ، وَبَدَلْتُ سَيِّئَاتِكَ حَسَنَاتٍ، قَالَ: فَيَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَهُمْ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3015
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبریل علیہ السلام فرشتوں کی ایک جماعت کو لے کر (زمین پر) اترتے ہیں اور ہر اس بندہ پر جو کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اللہ کی یاد (اور عبادت) میں مشغول رہتا ہو، دعائے مغفرت کرتے ہیں، پھر جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے ان (عبادت گزار بندوں کی وجہ) سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں اے میرے فرشتو! اس مزدور کی کیا اجرت ہے جو اپنا کام پورا کر دے؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار اس کی اجرت یہ ہے کہ اس کا پورا پورا معاوضہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے فرشتو! (سنو!) میرے غلاموں اور میری لونڈیوں نے اس فریضہ کو پورا کیا ہے جس کو میں ان پر فرض کیا تھا، پھر جب مسلمان دعا کرتے ہوئے (عیدگاہ کی طرف) جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میری عزت کی اور عظمت کی، بخشش کی اور عظمت اور بلندی کی قسم، میں ان کی دعاؤں کو ضرور قبول کرونگا۔ پھر اللہ تعالیٰ (اپنے ان بندوں سے) فرماتے ہیں: (اے میرے بندو! اپنے گھروں کو) لوٹ جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا (یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا کہ وہ (مسلمان) ایسی حالت میں (عیدگاہ سے اپنے گھروں کو) لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2096 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 2096

Confidence and text similarity are not editorial verification.