Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2557

Chapter of I’tikaf (Religious Seclusion)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Chapter of I’tikaf (Religious Seclusion)

Zujajat al-Masabih 2557Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3024Noor 3025Noor 3026
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہر سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ قرآن کا دور کیا جاتا تھا (یعنی رمضان میں حضرت جبریل علیہ السلام حضورﷺ کو اور حضورﷺ حضرت جبریل علیہ السلام کو پورا قرآن سنایا کرتے تھے۔ اور جس سال حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی وفات ہوئی، اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا (اس سال کے رمضان میں) دو دفعہ قرآن کا دور ہوا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام ہر سال (رمضان میں) دس دن اعتکاف فرماتے تھے اور جس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی (اس سال کے رمضان میں) آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔ اور ترمذی کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ہر سال) رمضان کے آخری دہے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سال (کسی وجہ سے) اعتکاف نہ فرما سکے تو جب آئندہ سال (کا رمضان) آیا تو آپ نے اس میں بیس دن اعتکاف فرمایا۔ اس کی روایت ابوداؤد۔ اور ابن ماجہ نے بھی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4998 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2463 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

He observed I’tikaf for twenty days

(1) The statement: “He observed I’tikaf for twenty days” could mean that in the previous year, he was traveling and did not observe I’tikaf. Therefore, the following year, he observed I’tikaf for twenty days. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari’.

Note 2

He did not observe I’tikaf

(2) The statement: “He did not observe I’tikaf” may explain the previous hadith. Al-Tibi said: The hadith indicates that missed voluntary acts can be made up, just like obligatory acts. However, making up obligatory acts is obligatory, while making up voluntary acts is voluntary. This is mentioned in ‘Al-Mirqat’. In ‘Al-Durr al-Mukhtar’, under the chapter of making up missed prayers, it is stated: Making up obligatory, necessary, and Sunnah prayers is obligatory, necessary, and Sunnah, respectively. Its detailed explanation is in ‘Radd al-Muhtar’ under the chapter of making up missed prayers.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فاعتكف عشرين إلخ وقيل : يحتمل أنه كان في العام الذي قبله كان مسافرًا، فلم يعتكف. فلما كان العام المقبل اعتكف عشرين قاله في عمدة القاري».

Note 2

قوله

(۲) قوله : فلم يعتكف إلخ لعل هذا الحديث تفسير للحديث المتقدم. قال الطيبي دل الحديث على أن النوافل المؤقتة تقضى إذا فاتت كما تقضى الفرائض. والظاهر أن التشبيه لمجرد القضاء بعد الفوت، وإلا فقضاء الفرائض فرض وقضاء النوافل نفل قاله في «المرقاة» وقال في الدر المختار في باب قضاء الفوائت وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة انتهى. قلت: وتحقيقه في رد المحتار في باب قضاء الفوائت.

Note 1

ف: صدری حدیث جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات کے سال رمضان میں بیس دن اعتکاف فرمایا اور اس میں دو دفعہ قرآن کا دور ہوا۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے کہا ہے کہ ہر انسان کو چاہئے کہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اعمال صالحہ زیادہ کرے تاکہ اللہ تعالیٰ سے سرخروئی کے ساتھ مل سکے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہر عشرہ میں قرآن کا ایک دور ختم کرنا چاہئے۔ اور عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ حضور نے اپنی وفات کے سال رمضان میں بیس دن جو اعتکاف فرمایا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ نے اس سے قبل کے رمضان میں حالت سفر میں ہونے کی وجہ سے اعتکاف نہ کیا ہو اور درمختار میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نوافل کی بھی قضاء کرنی چاہئے اور یہ کہ فرض کی قضاء فرض، واجب کی قضاء واجب اور نفل کی قضاء نفل ہے۔12